بندہ اور خدا کا معاملہ
Urdu book, p. 47
By Maulana Wahiduddin Khan
بندہ اور خدا کا معاملہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے : اور جب میرے بندے میرے متعلق پوچھیں تو کہہ دو کہ میں قریب ہوں۔ پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب وہ مجھے پکارتا ہے۔ پس چاہئے کہ وہ میری پکار کا جواب دیں اور میرے اوپر یقین رکھیں تاکہ وہ فلاح حاصل کریں۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا اور بندے کا معاملہ دو طرفہ معاملہ ہے۔ بندہ وہ چیز دیتا ہے جو اس کے پاس ہے، اس کے بعد خدا اس کو وہ چیز دیتا ہے جو خدا کے پاس ہے۔ بندہ اپنے خدا کو معرفت اور تقویٰ اور شکر کا تحفہ پیش کرتا ہے۔ اس کے جواب میں خدا اس کے لئے رشد (فلاح) کا فیصلہ کرتا ہے (بقرہ) آدمی کے سامنے ایک معاملہ آتا ہے جس میں بیک وقت دو امکانات ہوتے ہیں۔ ایک شریعت اور اخلاق کے مطابق، دوسرا شریعت اور اخلاق کے خلاف۔ ایسے موقع پر خدا کی پکار کا جواب دینا یہ ہے کہ آدمی خدا کے دئے ہوئے علم کے مطابق صحیح کو پکڑلے خواہ وہ بظاہر مشکل ہو اور غلط کو چھوڑ دے خواہ وہ بظاہر آسان ہو۔ آدمی کے سامنے بار بار ایسے مواقع آتے ہیں جب کہ وہ ایسے مقام پر کھڑا ہوتا ہے کہ وہ یا تو ظلم اور بے انصافی کرے یا حق اور انصاف سے کام لے۔ ایسے موقع پر خدا کی پکار کا جواب دینا یہ ہے کہ آدمی ظلم اور نا انصافی سے بچے اور اپنے کو حق اور انصاف کے طریقے پر قائم رکھے ۔ دنیا میں آدمی کو اپنے وجود کے اندر اور وجود کے باہر جو کچھ ملا ہے اس کو وہ اتفاق کا نتیجہ یا اپنے دست و بازو کی کمائی بھی سمجھ سکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ وہ حقیقت واقعہ کا اعتراف کرتے ہوئے ہر چیز کو خدا کی چیز سمجھے۔ اس لئے جب آدمی کو کوئی چیز ملے تو خدا کی پکار کا جواب دینا یہ ہے کہ اس وقت آدمی کہہ اٹھے کہ خدایا تو ہی دینے والا ہے اور تو ہی نے سب کچھ دیا ہے۔ بندہ جب اس طرح اپنے دماغ اور دل کا نذرانہ خدا کے سامنے پیش کر دے تو خدا اس کے لئے رشد کا فیصلہ کر دیتا ہے ، جس کا مطلب ہے دنیا میں صالح زندگی اور آخرت میں ابدی جنت۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader