Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

مینٹل ایکٹیوٹی

Urdu book, p. 9

By Maulana Wahiduddin Khan

مینٹل ایکٹیوٹی قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کی یاد سب سے بڑی چیز ہے (ولذكر الله اكبر) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ایک گھڑی کا سوچنا ایک سال کی عبادت سے بہتر ہے (تفكر ساعة خير مين عبادة سنة) ذکر و فکر سے متعلق جو آیتیں اور حدیثیں ہیں ان کا ایک مطلب خالص روحانی ہے۔ یعنی اللہ کی صفتوں کو یاد کرنا اور ان سے ان جذبات و کیفیات کا دل میں پیدا ہونا جن کو قرآن میں خشوع، تضرع، اخبات، انابت وغیرہ کے الفاظ میں بیان کیا گیا ہے۔ یہ کیفیت دین کا اصل مطلوب ہے اور یہی خود عبادت کا بھی خلاصہ ہے۔ ان آیتوں اور حدیثوں سے ایک اور بہت اہم بات معلوم ہوتی ہے۔ یہ علم کی فوقیت ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ جسمانی عمل (physical activity) کے مقابلہ میں ذہنی عمل (mental activity) کی اہمیت زیادہ ہے۔ جسم کی حرکت سے آدمی جو کام کرتا ہے اس سے بہت زیادہ قیمت اس کام کی ہے جو وہ دماغ کی حرکت کے ذریعہ انجام دیتا ہے۔ ایک گھڑی کا دماغی کام ایک سال کے جسمانی کام کے برابر ہے۔ ایک مزدور بھی محنت کرتا ہے اور ایک انجینئر بھی۔ مگر مزدور کو جو معاوضہ دیا جاتا ہے وہ اس سے بہت زیادہ معاوضہ وہ ہے جو انجینئر کو ملتا ہے۔ اسی مثال سے جسم اور ذہن کے فرق کو سمجھا جاسکتا ہے۔ جسمانی محنت اگر ہتھوڑا چلاتی ہے تو دماغی محنت مشین چلاتی ہے۔ جسمانی محنت پاؤں سے سفر کرتی ہے تو دماغی محنت کار اور ہوائی جہاز کی رفتار سے سفر کرتی ہے۔ جسمانی محنت ظاہر کو جانتی ہے تو دماغی محنت حقیقت کا پتہ کر لیتی ہے۔ جسمانی محنت اگر تلوار سے لڑتی ہے تو دماغی محنت لڑائی کئے بغیر جنگ جیت لیتی ہے۔ جسمانی محنت اگر آدمی کو دکھائی دینے والی دنیا تک پہنچاتی ہے تو دماغی محنت کے ذریعہ آدمی غیب تک اور خدا کی چھپی ہوئی دنیا تک پہنچ جاتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page