Urdu book · دعا و ذکر کی حقیقت اور اسم اعظم

ننانوے اسماءِ حسنیٰ

Urdu book, p. 119

By Maulana Wahiduddin Khan

اِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ (سورہ فاطر ۱۰) إِلَيْهِ يَصْعَدُ الْكَلِمُ الطَّيِّبُ وَالْعَمَلُ الصَّالِحُ يَرْفَعُهُ (سورہ فاطر: ۱۰) ترجمہ: اس کی طرف پاکیزہ کلام چڑھتا ہے اور عمل صالح اس کو اوپر اٹھاتا ہے۔ اسمِ اعظم کسی "لفظ" کا نام نہیں ہے بلکہ "کیفیت" کا نام ہے۔ کیفیتِ اعظم کے ساتھ جو دعا کی جائے وہی اسمِ اعظم کے ساتھ دعا کرنا ہے۔ یہ دراصل آپ کی اپنی قلبی کیفیت ہے جو کسی دعا کو اسمِ اعظم کی دعا بناتی ہے۔ کسی انسانی لفظ میں یہ طاقت نہیں کہ وہ خدا کا اسمِ اعظم بن جائے وہ خدا کی لامحدود ہستی کا احاطہ کرلے۔ مرتب: عبداللہ برمی

The printed page

‹ Previous page About this book Open in the reader

Printed page