آپ مشتعل نہیں ہوئے
Urdu book, p. 17
By Maulana Wahiduddin Khan
تھا۔ اس میں جنگ نا جائز سمجھی جاتی تھی۔ اس لیے اہل مکہ چاہتے تھے کہ مسلمانوں کے اوپر جارحیت کی ذمہ داری ڈال کر ان سے جنگ کی جائے۔ مسلمان اس وقت کم تعداد میں تھے۔ ان کے پاس سامان جنگ نہیں تھا۔ وہ مرکز مدینہ سے ڈھائی سومیل دور اور دشمن کے مرکز (مکہ) کی عین سرحد پر تھے۔ قریش کے لیے بہترین موقع تھا کہ آپ کے اوپر بھر پور وار کر کے آپ کے خلاف اپنے دشمنانہ حوصلوں کو پورا کر سکیں۔ اسی لیے انھوں نے ہر ممکن کوشش کی کہ کسی طرح آپ مشتعل ہو کر لڑ پڑیں۔ مگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر شرارت کو نظر انداز کرتے رہے اور کسی طرح اشتعال کی نوبت نہ آنے دی۔ یہ معاملہ اتنا سنگین تھا کہ حضرت ابو بکر کے سوا صحابہ کرام میں سے کوئی شخص نہ تھا جو یہ محسوس نہ کر رہا ہو کہ ہم ظالم کے آگے جھک گئے ہیں اور اپنے کو توہین آمیز شرائط پر راضی کر لیا ہے۔ قرآن میں جب اس معاہدہ کے بارے میں آیت اتری کہ یہ فتح مبین ہے تو صحابہ نے کہا: کیا یہ فتح ہے۔ ایک مسلمان نے کہا: کیسی فتح ہے کہ ہم بیت اللہ جانے سے روک دیے گئے۔ ہماری قربانی کے اونٹ آگے نہ جاسکے۔ خدا کے رسول کو حدیبیہ سے واپس آنا پڑا۔ ہمارے مظلوم بھائی (ابو جندل اور ابو بصیر) کو اس صلح کے تحت ظالموں کے حوالے کر دیا گیا، وغیرہ۔ مگر اسی ذلت آمیز صلح کے ذریعہ خدا نے فتح عظیم کا دروازہ کھول دیا۔ یہ معاہدہ بظاہر دشمن کے آگے جھک جانا تھا۔ مگر حقیقت وہ اپنے کو مضبوط اور مستحکم بنانے کا وقفہ حاصل کرنا تھا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قریش کے تمام مطالبات منظور کر کے ان سے صرف ایک یقین دہانی لے لی۔ یہ کہ قریش اور مسلمانوں کے درمیان دس سال تک کوئی لڑائی نہ ہوگی۔ اب تک یہ تھا کہ مسلسل حالت جنگ کی وجہ سے تبلیغ و تعمیر کا کام رکا ہوا تھا۔ آپ نے حدیبیہ سے لوٹ کر فورا دعوت و تبلیغ کا کام عرب اور اطراف عرب میں تیزی سے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader