Urdu book · حل یہاں ہے

بے برداشت نہ ہو

Urdu book, p. 26

By Maulana Wahiduddin Khan

نہ کرنا اور ان کے لئے لڑ جانا ۔ جذباتی ٹھیس پہنچنے والے معاملات کو نظر انداز نہ کرنا اور اپنے کو ان میں الجھا لینا ۔ سماجی اور معاشی مسائل میں خود تعمیری کے اصول پر عمل نہ کرنا اور مطالبہ اور احتجاج کی سیاست میں اپنے کو مشغول کر لینا ۔ اپنے افراد میں کردار کی طاقت پیدا کرنے سے پہلے بڑے بڑے اقدامات کرنے لگنا ۔ اجتماعی زندگی میں پیش آنے والی فطری زیادتیوں کو غیر ضروری اہمیت دینا اور ان کی خاطر تصادم چھیڑ دینا ۔ دوسروں سے غیر حقیقی توقعات قائم کرنا اور جب وہ توقعات پوری نہ ہوں تو جھنجھلا کر ان سے مڈبھیڑ شروع کر دینا ۔ انسانی کمزوریوں کی رعایت نہ کرنا اور کسی کے اندر ایک بشری کمزوری پا کر اس کو اچھالنا اور اس کی بنیاد پر ہنگامہ آرائی کرنا ۔ سیاسی حکمرانوں سے مفاہمت نہ کرنا اور قبل از وقت ان سے ٹکرا جانا ۔ وغیرہ ’’بے برداشت نہ ہو جائو‘‘ کا اصول حد درجہ حکمت پر مبنی ہے۔ اس کی خلاف ورزی کا ایک نقصان یہ ہوتا ہے کہ نہ ملے ہوئے مواقع کی حرص میں ملے ہوئے مواقع بھی برباد ہو جاتے ہیں۔ ایک حکمراں جو غیر سیاسی دائرہ میں کام کرنے کا موقع دے رہا ہے، اس کو سیاسی اقتدار سے بے دخل کرنے کی مہم چلائی جانے لگے تو وہ غیر ضروری طور پر اہل حق کو اپنا حریف سمجھ لیتا ہے اور حکومتی قوت سے کام لے کر انھیں کچل ڈالتا ہے ۔ فرقِ ثانی اگر زور آور حیثیت رکھتا ہے اور اس کے افراد سے بعض زیادنتیاں سرزد ہوتی ہیں اور ان کو برداشت نہیں کیا جاتا تو اس کے بعد عمومی سطح پر ایسے فسادات برپا ہوتے ہیں کہ پوری زندگی تہس نہس ہو جاتی ہے اور کسی بھی قسم کا کوئی تعمیری کام کرنا ناممکن ہو جاتا ہے۔ جب بھی آدمی کوئی کام شروع کرتا ہے تو فطری طور پر ایسا ہوتا ہے کہ اجتماعی زندگی میں مختلف لوگوں کی طرف سے شکایت اور نقصانان سامنے آتے ہیں۔ آدمی اگر ہر شکایت اور ہر نقصان کو اہمیت دے اور اس کی بنیاد پر لوگوں سے لڑنا شروع کر دے تو اصل کام رک جائے گا اور بس لڑائی جھگڑے باقی رہیں گے۔ دوسرے یہ کہ بالفرض ان تمام نادانیوں کے باوجود اہل حق کو غلبہ دے دیا جائے تو عدم تیاری کی کی بنا پر وہ اس کو سنبھال نہ سکیں گے۔ اگر کسی گروہ میں اتحاد نہ ہو تو غلبہ پانے کے بعد وہ آپس میں لڑنا شروع کر دیں گے، جو ماجرا پہلے حق پرستوں اور باطل پرستوں کے درمیان جاری تھا وہ خود حق پرستوں کے اپنے درمیان ہونے لگے گا۔ اگر ان کے افراد میں کردار پیدا نہ ہوا ہو اور انھیں اقتدار پر قبضہ مل جائے تو وہ اصلاح کے بجائے صرف فساد کا سبب بنیں گے اور نتیجہ حق کے بارے میں ایسی بدگمانیاں پیدا ہوں گی کہ لوگ اس کو ایک قابل نفرت چیز سمجھنے لگیں۔ اگر انھوں نے اپنے اندر یہ مزاج پختہ نہیں کیا ہے کہ ان کے نزدیک ساری اہمیت حق کی ہے باقی تمام چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں تو وہ غلبہ پا کر غیر ضروری سرگرمیوں میں مشغول ہو جائیں گے اور سماج کو نئے نئے مسائل میں الجھا کر رکھ دیں گے۔ اگر انھوں نے اپنے آپ کو انتقام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page