چھوٹے شر کو نظر انداز کرو
Urdu book, p. 28
By Maulana Wahiduddin Khan
چھوٹے شر کو نظر انداز کرو اخرج الطبرانی فی الاوسط عن ابی جعفر الخطی حضرت عمیر بن حبیب بن حماسۃ جنھوں نے اپنی بلوغت ان جدہ عمیر بن حبیب بن حماسۃ و کے زمانہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پالیا تھا، كان قد ادرك النبی صلی اللہ علیہ وسلم عند اپنے لڑکے کو وصیت کرتے ہوئے کہتے ہیں۔ اے میرے احتلامہ اوصی ولدہ فقال: یابنی ایاک بیٹے، نادانوں کی صحبت سے بچو کیونکہ ان کی صحبت میں ومجالسۃ السفهاء فان مجالستھم بیٹھنا بیماری ہے۔ اس کو خوشی ملی جس نے نادان داء ومن يحلم عن السفيه يسر ومن آدمی سے درگزر کیا۔ اور وہ شخص چھپایا جس نے اس يحبہ يندم ومن لا يرضی بالقلیل سے دوستی کی۔ اور جو شخص نادان کے چھوٹے شر پر مما یاتی بہ السفيه يرضی بالکثیر۔ راضی نہ ہو، اس کو نادان کے بڑے شر پر راضی ہونا پڑے واذا اراد احدکم ان یامر بالمعروف او گا اور جب تم میں سے کوئی شخص امر بالمعروف اور نہی ينهی عن المنکر فليوطن نفسہ علی الصبر عن المنکر کا کام کرنا چاہے تو اپنے آپ کو تکلیف پر برداشت على الاذى ويثق بالثواب من الله تعالى فانه کرنے کے لئے تیار کرلے اور اللہ سے ثواب ملنے پر بھروسہ من وثق بالثواب من اللہ عز وجل لم یضرہ کرے ۔ کیونکہ جو شخص اللہ سے ثواب ملنے پر بھروسہ کرے گا مس الاذى اس کو تکلیف کا پہنچنا نقصان نہ دے گا۔ ایک نادان شخص اگر کسی کی طرف کنکری پھینکے تو اس کا فوری تاثر یہ ہوتا ہے کہ اس کا بھر پور جواب دیا جائے۔ حالانکہ نادان کی کنکری کا زیادہ بہتر جواب اس کو برداشت کر لینا ہے۔ "کنکری" کو برداشت کر کے آپ معاملے کو "پتھر" تک پہنچنے سے روک دیتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ کسی نادان کے شر کو برداشت نہ کرنا ہمیشہ اس قیمت پر ہوتا ہے کہ بالآخر اس سے زیادہ بڑے شر کو برداشت کرنے پر اپنے کو راضی کیا جائے۔ ایک فرقہ کا پہلوان دوسرے فرقہ کے زیر انتظام اکھاڑے میں اس فرقہ کے پہلوان سے کشتی لڑتا ہے۔ کشتی کے خاتمہ پر پہلے فرقہ کے پہلوان کو شکایت ہوتی ہے کہ اس کے ساتھ دھاندلی کی گئی ہے۔ ایسی حالت میں زیادہ بہتر طریقہ یہ ہے کہ وہ اس دھاندلی کو برداشت کر لے اور اگلے سال اتنی زیادہ تیاری کے ساتھ مقابلہ کے میدان میں اترے کہ وہ دھاندلی کی حد کو پار کر چکا ہو۔ اس کے برعکس اگر اس نے دھاندلی کو برداشت نہ کیا اور دھاندلی کا بدلہ لینے کے لئے دوسرے فرقہ کے پہلوان کو قتل کرنے کی کوشش کی تو اس کے نتیجہ میں ایسا فساد رونما ہوگا جو اس فرقہ کی پوری بستی کو ویران کر دے گا۔ اکھاڑے کی دھاندلی نہ برداشت کرنے کی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader