صبر کا طریقہ
Urdu book, p. 31
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک روز احتجاجی ہڑتال کی بسوں کو روک کر مسلم مسافروں کو پریشان کرنا شروع کیا۔ ہندی اخبارات میں اغوا کی رپورٹ شائع کرائی۔ اس طرح کے واقعات نے علاقہ میں سخت اشتعال پیدا کر دیا۔ اور اندیشہ ہو گیا کہ کسی بھی دن فساد برپا ہو جائے اور اس کے بعد سارا علاقہ آگ اور خون کی نذر ہو جائے۔ اس علاقہ میں مسلمانوں کی پنچایت قائم ہے اور اہم قومی مسائل پر پنچایتی فیصلہ کیا جاتا ہے۔ چنانچہ پنچایت کا اعلان ہوا تا کہ باہمی مشورہ سے اقدام کا فیصلہ کیا جائے۔ ایک خاص تاریخ کو علاقہ کے چودھری اور ذمہ دار مسلمان کئی سو کی تعداد میں فیروز پور کے پاس ایک مقام پر جمع ہوئے۔ کئی گھنٹہ کی گفتگو کے بعد بالا آخر بائیکاٹ کا فیصلہ ہوا۔ طے ہوا کہ مسلمان کوئی براہ راست کارروائی نہ کریں۔ بس خاموشی سے یہ کریں کہ غیر مسلم دوکان داروں کے یہاں سے خریداری کرنا بالکل بند کر دیں۔ کچھ لوگ نگراں مقرر ہوۓ جو بازار کے تمام راستوں پر بیٹھیں اور یہ دیکھتے رہیں کہ کوئی مسلمان خریداری کے لئے غیر مسلم دوکان داروں کے یہاں نہ جائے۔ اگلے دن سے بائیکاٹ شروع ہو گیا۔ میوؤں کے نزدیک برادری کے فیصلہ کی بڑی اہمیت ہوتی ہے ، اس لئے بائیکاٹ کا فیصلہ صد فی صد کامیاب رہا۔ فیروز پور کا بازار نیز اطراف کے بازار جو روزانہ بھرے رہتے تھے، بالکل سونے ہو گئے۔ دکان دار سارے دن بے کار رہنے لگے۔ ابھی بائیکاٹ کو صرف تین دن گزرے تھے کہ غیر مسلم دکان دار بیچ اٹھے۔ غیر مسلم دوکان داروں نے باہم مشورہ کرکے ذمہ دار مسلمانوں کو بلایا اور مسلمانوں اور غیر مسلموں کی ایک مشترکہ پنچایت کی۔ غیر مسلم حضرات نے کہا کہ ہم آپ کے بھائی ہیں، جو کچھ ہوا اس کو بھول جائیے اور ہماری کوتاہی معاف کیجئے اور بائیکاٹ کو ختم کر دیجئے۔ مسلمانوں نے اس پیش کش کو قبول کر لیا اور چوتھے دن بائیکاٹ ختم ہو گیا اور اسی کے ساتھ مسلمانوں کے خلاف جو کارروائیاں کی جا رہی تھیں وہ بھی ختم ہو گئیں۔ ۳۔ علی گڑھ یونیورسٹی کیمپس میں ستمبر ۱۹۸۰ء میں یہ واقعہ ہوا کہ ہادی حسن ہال کے پیچھے ایک جھاڑی میں دوسرے فرقہ سے تعلق رکھنے والے چار آدمی ایک سور کاٹ رہے تھے۔ بظاہر ان کا منصوبہ یہ تھا کہ سور کے ٹکڑے یونیورسٹی میں پھینک کر وہاں کے مسلمانوں کو مشتعل کر دیا جائے اور اس طرح بہانہ پیدا کر کے یونیورسٹی کے علاقہ میں فساد کیا جائے۔ اتفاق سے کچھ مسلم طلبانے اس کو دیکھ لیا۔ انھوں نے فوراً یونیورسٹی پروکٹر کو مطلع کیا۔ پروکٹر نے اسی وقت پولیس کو ٹیلی فون کیا۔ پولیس اطلاع ملتے ہی فوراً پہنچ گئی اور چاروں آدمیوں کو عین موقع پر گرفتار کر لیا۔ علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے لوگوں کی یہی دانش مندی تھی جس کی وجہ سے ایسا ہوا کہ ۱۹۸۰ء میں علی گڑھ میں مہینوں تک فساد کا سلسلہ جاری رہا مگر سارا فساد شہر کے علاقہ میں ہوا اور ریلوے لائن کے دوسری طرف یونیورسٹی کا وسیع علاقہ بالکل محفوظ رہا۔ علی گڑھ کا یہ تجربہ بتاتا ہے کہ ہر تخریبی سازش کو دانش مندی کے ذریعہ غیر موثر بنایا جا سکتا ہے ۔ یہ اور اس طرح کے دوسرے واقعات سے معلوم ہوتا ہے کہ فساد کے اسباب مکمل طور پر پیدا ہونے کے باوجود اس کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جا سکتا ہے۔ کوئی واقعہ کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو ہمیشہ اس کے اندر اس کی کاٹ کے اسباب بھی موجود ہوتے ہیں۔ اور یہ ممکن ہوتا ہے کہ ان کو استعمال کرکے اس کو غیر موثر بنا دیا جائے مگر اس امکان کو استعمال

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader