ایک چھوڑی ہوئی سنّت
Urdu book, p. 35
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک چھوڑی ہوئی سنّت انیسویں صدی عیسوی کے آغاز میں پرتگیزی ہندوستان کے ساحل تک آچکے تھے۔ اس زمانہ میں ایسے واقعات پیش آئے کہ ہندوستانی مسلمان جو بادبانی کشتیوں کے ذریعہ حج کے لئے ہندوستان سے حجاز جارہے تھے، ان کو پرتگیزیوں نے راستہ میں لوٹ لیا۔ اس طرح کے واقعات مشہور ہوئے تو اطراف لکھنؤ کے بعض علماء نے یہ فتویٰ دیا کہ موجودہ حالات میں ہندوستانی مسلمانوں کے لئے حج کی عبادت ضروری نہیں ہے۔ انھوں نے کہا کہ قرآن میں ہے کہ من استطاع الیہ سبیلا (آل عمران ۹۷) اس آیت کے مطابق حج کی شرط یہ ہے کہ راستہ میں امن ہو۔ چونکہ حجاز اور ہندوستان کے درمیان کا سمندری سفر غیر مامون ہوگیا ہے، اس لئے اس آیت کے مطابق اب ہندوستانی مسلمانوں کے اوپر سے حج کی فرضیت ساقط ہوگئی ہے۔ یہ مسئلہ بڑا تھا اور مختلف علماء سے اس کے بارہ میں رائے میں دریافت کی گئیں۔ مفتی فیض الدین صاحب (لکھنؤ) نے شاہ عبد العزیز دہلوی (۱۸۲۳- ۶۱۷۲) کو خط بھیجا اور اس کے متعلق ان کا فتویٰ پوچھا۔ انہوں نے اور دوسرے علماء نے فتویٰ دیا کہ حج کی فرضیت بدستور قائم ہے۔ سمندری خطرات کے باوجود صاحب استطاعت مسلمانوں کو حج کرنا چاہئے۔ اس کے بعد سید احمد شہید بریلوی (۱۸۳۱ - ۶۱۷۸۶) کے اندر جوش پیدا ہوا۔ انہوں نے حج کو زندہ کرنے کے لئے ایک فوری اقدام کیا۔ انھوں نے اعلان کیا کہ ہم حج کے لئے جا رہے ہیں۔ جس کا جی چاہا، وہ ہمارے ساتھ چلے۔ ہم ہر ایک کے اخراجات کے ذمہ دار ہیں۔ اس سلسلہ میں انھوں نے مختلف علاقوں میں خطوط روانہ کئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ تقریبا سات سو آدمی ان کے ساتھ جمع ہو گئے۔ اگرچہ اس وقت سید صاحب کے پاس صرف گیارہ روپئے موجود تھے مگر انھوں نے مجاہدانہ عزم کے ساتھ قافلہ کو لے کر سفر شروع کر دیا۔ رائے سے بریلی سے الہ آباد پہنچے۔ وہاں سے گنگا میں چلنے والی کشتیوں کے ذریعہ کلکتہ تک کا سفر کیا۔ اور کلکتہ سے بادبانی کشتیوں کے ذریعہ جدہ کے ساحل پر اترے اور پھر حج ادا کر کے سب کے ساتھ واپس آئے۔ پورے راستہ میں مسلم آبادیاں ان کا تعاون کرتی رہیں ۔ اس طرح یہ سفر تکمیل تک پہنچا۔ سید احمد شہید کا یہ پر جوش اقدام قابل تعریف ہے۔ مگر یہاں سوچنے کی بات یہ ہے کہ ایسا کیوں ہوا کہ سید صاحب کے اندر اس کا جوش تو پیدا ہوا کہ وہ حج کے فریضہ پر لوگوں کو عمل کرانے کے لئے فوری اقدام کریں۔ مگر ان کی سمجھ میں یہ نہ آیا کہ اس بات کی تحقیق کریں کہ یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader