آغاز کلام
Urdu book, p. 6
By Maulana Wahiduddin Khan
اور زیادہ ابھرنے کا اصول رائج ہے۔ ان تخریب کاروں کی بدقسمتی یہ ہے کہ قانون قدرت ان کی راہ میں حائل ہے۔ آرنلڈ ٹوائن بی نے اپنی کتاب (ا سٹڈی آف ہسٹری) میں دنیا کی ۲۱ تہذیبوں کا مطالعہ کیا ہے۔ انھوں نے بتایا ہے کہ تہذیبوں کو وجود میں لانے والی ہمیشہ وہ قومیں تھیں جو شکست اور محرومی سے دوچار کی گئیں (مثال کے طور پر مغرب کی مسیحی قومیں صلیبی جنگوں میں ذلت آمیز شکست کے بعد جدید صنعتی تہذیب کی خالق بنیں) اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ مسلمانوں کو محرومی اور شکست میں مبتلا کر کے ان کے خاتمہ کا خواب دیکھ رہے ہیں وہ ایک ایسے نتیجہ کا انتظار کر رہے ہیں جو قانون قدرت کے مطابق ان کے اندازوں کے سراسر خلاف بالکل برعکس صورت میں ظاہر ہونے والا ہے۔ تاہم زیر نظر مجموعہ میں ہمارا خطاب نہ حکومت سے ہے اور نہ اکثریتی فرقہ سے۔ ہمارا خطاب یہاں تمام تر مسلمانوں سے ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ وہ اس تمام معاملہ کا ذمہ دار صرف اپنے آپ کو قرار دیں۔ وہ خود یہ ذمہ داری لیں کہ وہ اس ناگوار صورت حال کو یک طرفہ طور پر ختم کریں گے ۔ اور یقیناً بہادر انسانوں کا طریقہ ہمیشہ یہی رہا ہے۔ فسادات کو روکے کی جو تدبیر اس کتابچہ میں درج ہے، راقم الحروف اس کو پچھلے ہیں سال سے پیش کر رہا ہے ۔ ۶۶۔ ۱۹۶۵ میں ہفت روزہ ندائے ملت (لکھنو) کے کالموں میں ۔ ۱۹۶۷ سے ۷۴ ۱۹ تک ہفت روزہ الجمعیة (دہلی) میں اور ۷۶، ۱۹ سے باقاعدہ طور پر ماہنامہ الرسالہ (نئی دہلی) میں ۔ زیر نظر کتابچہ اسی ذیل کی ایک مزید کوشش ہے۔ اللہ تعالیٰ اس کو لوگوں کی اصلاح کا ذریعہ بنائے ۔ وحید الدین

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader