حقیقت حج
Urdu book, p. 34
By Maulana Wahiduddin Khan
دن تمہارے اس مہینے میں تمہارے اس شہر میں حرام ہے۔ سن لو کہ جاہلیت کے معاملے کی ہر چیز میرے قدموں کے نیچے ہے اور جاہلیت کے تمام خون باطل کر دیے گئے اور سب سے پہلا خون جو میں درگزر کرتا ہوں وہ ہمارا خون، ربیعہ بن حارث کے بیٹے کا خون ہے۔ وہ بنو سعد میں دودھ پلانے والی دائی کے پاس تھا تو اس کو ہذیل نے قتل کیا۔ اور جاہلیت کے تمام سود باطل ہیں۔ اور سب سے پہلا سود جو میں باطل کرتا ہوں وہ ہمارے خاندان کا سود، عباس بن عبد المطلب کا سود ہے وہ سب کا سب باطل ہے۔ تم لوگ عورتوں کے معاملے میں خدا سے ڈرو۔ تم نے ان کو اللہ کی امانت کے طور پر حاصل کیا ہے۔ اور ان کی شرمگاہوں کو اللہ کے کلمہ سے حلال کیا ہے۔ اور ان کے اوپر تمہارا یہ حق ہے کہ وہ تمہارے بستر پر کسی غیر کو، جس کا آنا تمہیں پسند نہیں، نہ آنے دیں۔ اگر وہ ایسا کریں تو تم ان کو ایسی مار مار سکتے ہو جو ظاہر نہ ہو۔ اور تمہارے اوپر ان کا حق یہ ہے کہ تم ان کو معروف طریقہ پر کھانا اور کپڑا دو۔ اور میں تمہارے درمیان ایک چیز چھوڑ رہا ہوں۔ اگر تم اس کو مضبوطی سے پکڑو گے تو تم گمراہ نہ ہوگے۔ وہ چیز خدا کی کتاب ہے۔ اور تم سے میری بابت پوچھا جائے گا۔ تو تم کیا کہو گے۔ لوگوں نے کہا کہ ہم گواہی دیں گے کہ آپ نے پہنچا دیا اور ادا کر دیا اور خیر خواہی کی۔ آپ نے شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور پھر اس کو لوگوں کی طرف کرتے ہوئے کہا کہ اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ، اے اللہ تو گواہ رہ۔ دوسرا خطبہ نص الخطبة التى خطبها رسول الله في اوسط أيام التشريق "يَا أَيُّهَا النَّاسُ، هَلْ تَدْرُونَ فِي أَيِّ يَوْمٍ أَنْتُمْ؟ وَفِي أَيِّ شَهْرٍ أَنْتُمْ؟ وَفِي أَيِّ بَلَدٍ أَنْتُمْ؟ قَالُوا: فِي يَوْمٍ حَرَامٍ، وَشَهْرٍ حَرَامٍ، وَبَلَدٍ حَرَامٍ، قَالَ: فَإِنَّ دِمَاءَكُمْ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader