Urdu book · حقیقت توحید

دورکاوت

Urdu book, p. 16

By Maulana Wahiduddin Khan

پایا تھا۔ وہ دیکھتا تھا کہ دنیا میں مختلف قسم کی حیران کن چیزیں ہیں ۔ سورج، چاند، ستارے، پہاڑ اور سمندر، زمین اور آسمان، درخت اور حیوانات وغیرہ وغیرہ۔ مظاہر کے اس تعدد کو دیکھ کر انسان اس غلط فہمی میں مبتلا ہو گیا کہ ان کے خالق بھی کئی ہیں یا یہ کہ مختلف مظاہر خود مختلف خداؤں کا ظہور ہیں۔ اس طرح تعددِ مظاہر کی بنا پر تعددِ خالق کا نظریہ پیدا ہوا۔ یہاں تک کہ سورج اور چاند کو ان کے غیر معمولی پن کی بنا پر خدا یا دیوتا سمجھا جانے لگا۔ انسان کے لئے یہ ناقابل یقین ہو گیا کہ جب مخلوقات میں اتنا زیادہ تنوع اور تعدد ہے تو ان سب کا خدا ایک کیسے ہو سکتا ہے۔ اسی حقیقت کی طرف خدا کے پیغمبر حضرت ابراہیم نے ان الفاظ میں اشارہ کیا تھا: رَبِّ إِنَّهُنَّ أَضْلَلْنَ كَثِيرًا (ابراہیم: 36) یعنی فطرت کے یہ نمایاں مظاہر (سورج، چاند وغیرہ) نے انسان کو دھوکہ میں ڈال دیا۔ لوگ انھیں مظاہر کو عظیم سمجھنے لگے۔ حالانکہ انھیں چاہیے تھا کہ وہ ان تمام چیزوں کو عظیم خدا کی مخلوق سمجھیں۔ مگر اس کے برعکس انھوں نے خود مخلوقات ہی کو ar-15 (p.16)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page