Urdu book · حکمتِ اختلاف

اختلاف کو نظر انداز کیجیے

Urdu book, p. 93

By Maulana Wahiduddin Khan

کا وقت گزر جاتا ہے۔ ان واقعات کو دیکھتے ہوئے میرے ذہن میں یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ علما کو صرف حاکم کے خلاف خروج (بغاوت) کے مسائل معلوم ہیں، کسی ادارہ کی انتظامیہ کے خلاف خروج (منفی رویہ) (management) کے مسائل ان کو معلوم نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ خروج ہر جگہ غیر مطلوب ہے، اس کا انھیں علم نہیں۔ ہونا یہ چاہیے تھا کہ علما اپنی علمی ذمے داریاں ادا کریں، اور ادارے کی انتظامیہ وغیرہ اپنی ذمے داریوں کو سمجھیں تو معاملہ ٹھیک رہے گا۔ اس معاملے میں علما کے لیے وہ حدیث رسول واحد راستہ ہے، جس کے الفاظ یہ ہیں: أَدُّوا إِلَيْهِمْ حَقَّهُمْ ، وَسَلُوا اللَّهَ حَقَّكُمْ ( صحیح البخاری، حدیث نمبر 7052 )۔ یعنی ان کو ان کا حق ادا کرو، اور اپنا حق اللہ سے مانگو۔ اگر اس حدیث کے مطابق عمل نہ کیا جائے، تو باعتبارِ نتیجہ صرف فساد برپا ہوگا، شکایت کا ازالہ نہیں ہوگا۔ اس سلسلے میں محدثین ہمارے لیے نمونہ ہیں۔ انھوں نے اپنی علمی اور دینی ذمے داریاں بھر پور طریقے سے ادا کی، لیکن وقت کے حکام سے جو شکایت تھی، اس کو نظر انداز کیا۔ جس کی وجہ سے آج ہم ان کے علمی ذخیرے سے فائدہ حاصل کر رہے ہیں۔ اس کے برعکس، موجودہ دور کے علماے کرام کا حال یہ ہے کہ دلوں میں شکایت پالنے کی وجہ سے وہ ایک طرف اپنے لیے مسائل میں اضافہ کر لیتے ہیں، تو دوسری طرف اس سے زیادہ بڑا یہ نقصان ہوتا ہے کہ وہ کوئی علمی کام نہیں کر پاتے اور نہ ہی کوئی اہم کارنامہ انجام دے پاتے ہیں۔ تقریباً ہر عالم اپنی انتظامیہ اور متولیانِ مساجد کے خلاف شکایت کرتا ہوا نظر آتا ہے، یہاں تک کہ پوری زندگی شکایت کی نذر ہو جاتی ہے۔ آج علما صرف جلسوں یا کانفرنسوں میں نظر آتے ہیں، مگر ان کی حالت یہ ہوتی ہے کہ وہ دنیا کو کوئی علمی تحقیق یا علمی یادگار نہیں دے پاتے۔ اس کے بغیر ہی وہ دنیا سے شاکی ہو کر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page