Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ حدیث

Urdu book, p. 107

By Maulana Wahiduddin Khan

001 ـــ علم کی اہمیت پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ۵۷۰ء میں عرب کے شہر مکہ میں پیدا ہوئے۔ ۶۱۰ء میں جب کہ آپ کی عمر ۴۰ سال کی ہوگئی تو آپ کو خدا نے نبوت عطا فرمائی۔ خدا کی طرف سے پہلی وحی جو آپ پر آئی وہ یہ تھی: پڑھو، اپنے رب کے نام سے جس نے تم کو پیدا کیا۔ انسان کو علق سے پیدا کیا۔ پڑھو، اور تمہارا رب کریم ہے۔ اس نے قلم کے ذریعہ علم سکھایا (علق) حقیقت یہ ہے کہ علم تمام انسانی ترقیوں کا آغاز ہے۔ انسان کو خدا نے بظاہر ایک حیوان کے روپ میں پیدا کیا ہے۔ مگر انسان کو ایک امتیازی صلاحیت دی گئی ہے اور وہ اس کا دماغ ہے۔ انسانی دماغ میں لامحدود حد تک غیر معمولی صلاحیت رکھی گئی ہے۔ اس صلاحیت کو بیدار کرنے کے لیے علم کی ضرورت ہے۔ علم کی مدد سے انسانی دماغ ترقی کرتا ہے اور بڑھتے بڑھتے اعلیٰ ترین درجے تک پہنچ جاتا ہے۔ علم کے ذریعہ آدمی تاریخ کو جانتا ہے۔ وہ فطرت کے رازوں کو دریافت کرتا ہے۔ وہ چیزوں کی ظاہری سطح سے گزر کر ان کی حقیقت تک پہنچ جاتا ہے۔ علم کی یہ اہمیت ایک انسان کے لیے بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی کہ دوسرے انسان کے لیے۔ 002 ـــ علم حاصل کرو پیغمبر اسلام نے فرمایا: علم حاصل کرنا ہر مسلمان مرد اور ہر مسلمان عورت پر فرض ہے۔ اس حدیث سے اسلام میں علم کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ خدا کی معرفت علم کے بغیر نہیں ہوسکتی۔ اس لیے علم سیکھنے کو فرض قرار دیا گیا۔ علم آدمی ۔کہ شعور کو بڑھاتا ہے۔ علم سے آدمی کے ذہن کی کھڑکیاں کھلتی ہیں۔ علم سے سوچ کا دائرہ وسیع ہوتا ہے۔ علم کے ذریعہ آدمی اس قابل ہو جاتا ہے کہ وہ زیادہ گہری حقیقتوں کو سمجھ سکے، وہ دوسروں کے تجربات سے فائدہ اٹھا کر اپنے ذہنی معیار کو بلند کر سکے۔ مذہبی اور روحانی ارتقاء کے لئے علم لازمی طور پر ضروری ہے۔ علم کے ذریعہ ذہن میں پختگی آتی ہے۔ علم کے ذریعہ فکری ارتقاء کا عمل جاری ہوتا ہے۔ علم کے بغیر آدمی نہ مقدس کتابوں کو پڑھ سکتا ہے اور نہ تاریخ اور کائنات کے بارے میں زیادہ باخبر ہو سکتا۔ علم آدمی کو حیوان کی سطح سے اٹھا کر انسان کی سطح پر پہنچا دیتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page