Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ حدیث

Urdu book, p. 110

By Maulana Wahiduddin Khan

007 ــ علم کی برتری پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ شہید کے خون کے مقابلہ میں عالم کے قلم کی روشنائی زیادہ افضل ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ علم کی عظمت تمام دوسری چیزوں سے زیادہ ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ علم کا تعلق ذہن سے ہے۔ علم سے ذہن کو تندرستی ملتی ہے ، ذہنی سوچ میں اضافہ ہوتا ہے ، علم نے یہ ممکن ہوتا ہے کہ ذہن معاملات کو زیادہ بہتر طور پر سمجھے اور زیادہ بہتر طور پر عمل کی منصوبہ بندی کرنے کے قابل ہو جائے۔ کوئی بھی جسمانی عمل ایک محدود عمل ہے۔ ایک مقام تک پہنچ کر جسمانی عمل کی حد آ جاتی ہے مگر علم کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ جس آدمی کو علم حاصل ہو اس کی شخصیت بے پناہ حد تک وسیع ہو جائے گی۔ وہ ہر قید سے باہر آ کر سوچنے کے قابل ہو جائے گا۔ وہ ایک ایسا انسان بن جائے گا جس کو کوئی زینہ کر سکے۔ جس طرح علم کی کوئی حد نہیں اسی طرح اس انسان کی بھی کوئی حد نہیں جو علم کی دولت کا مالک ہو جائے۔ 008 ــ علم کا ریکارڈ پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ علم کو کتابت کے ذریعہ محفوظ کرو۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو علم تمہارے ذہن میں ہے اس کو کاغد پر لکھ لو۔ اس طرح وہ اپنی صحیح شکل میں ہمیشہ کے لیے محفوظ ہو جائے گا۔ اس تعلیم کا ایک استعمال یہ ہے کہ علم کو کتابوں میں منتقل کیا جائے۔ ہر علمی موضوع پر کتابیں لکھ کر تیار کی جائیں۔ علم کو دماغ سے نکال کر لائبریری کی صورت میں ذخیرہ کر دیا جائے۔ اس معاملہ کی ایک صورت وہ بھی ہے جس کو ڈائری کہا جاتا ہے۔ اس طرح اس تعلیم کی ایک پیروی یہ بھی ہوگی کہ ہر آدمی اپنی ایک ڈائری رکھے۔ وہ اپنے روزانہ کے مطالعہ اور تجربہ کو مختصر طور پر اس میں تاریخ وار درج کرتا ہے اس طرح ہر آدمی کے علمی سفر کا ایک روز نامچہ تیار ہوتا رہے گا۔ یہ ڈائری آدمی کے روزانہ ذہنی سفر کا ایک ریکارڈ ہوگی ، وہ اپنے احتساب کا ایک مؤثر ذریعہ ہوگی۔ آدمی اپنی ڈائری کے ذریعہ اپنی کامیابی اور ناکامی کو جان کر اپنی اصلاح کرتا رہے گا۔ اس طرح ڈائری اس کی شخصیت کے ارتقاء کا ذریعہ بن جائے گی۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page