حکمتِ حدیث
Urdu book, p. 113
By Maulana Wahiduddin Khan
چیزوں کو نعمت کے پہلو سے دریافت کرنا ایک ایسا عمل ہے جو آدمی کو خدا سے قریب کرتا ہے، جو آدمی کو خدا سے جوڑتا ہے۔ وہ آدمی کے لیے خدا کی معرفت کا سب سے بڑا ذریعہ ہے۔ 014 — غور وفکر کا عمل ابو الدرداء پیغمبر اسلام کے ایک صحابی تھے۔ ان کی وفات کے بعد ایک شخص نے ان کی اہلیہ ام الدرداء سے پوچھا کہ ابو الدرداء کا سب سے بڑا عمل کیا ہوتا تھا۔ ام الدرداء نے جواب دیا کہ سوچنا اور عبرت پکڑنا۔ اس سے معلوم ہوا کہ کسی انسان کا سب سے بڑا عمل یہ ہے کہ وہ اپنے آس پاس کی چیزوں پر غور کرے اور ان سے عبرت کا پہلو اخذ کرتا رہے۔ یہ گویا ذہنی ارتقاء (intellectual progress) اور روحانی ارتقاء (spiritual developement) کا عمل ہے۔ جو سنجیدہ غور وفکر کی صورت میں انسان کے اندر جاری ہوتا ہے۔ وہ موت سے پہلے کبھی ختم نہیں ہوتا۔ 015 — علمی تواضع پیغمبر اسلام کے ایک صحابی عبد اللہ ابن مسعود نے فرمایا کہ جب تم کسی بات کو نہ جانو تو تم یہ کہہ دیا کرو کہ: الله أعلم (اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے)۔ اس اصول کو دوسرے لفظوں میں علمی تواضع کہا جا سکتا ہے۔ اور علمی تواضع علمی ترقی کے لیے بے حد ضروری ہے۔ عربی زبان کا ایک مثل ہے: لا أدری نصف العلم (میں نہیں جانتا، آدھا علم ہے)۔ یہ کہہ سکنا کہ میں نہیں جانتا، کوئی سادہ بات نہیں۔ یہ اپنے نہ جاننے کو جاننا ہے۔ جب آدمی اپنے نہ جاننے سے باخبر ہو جائے تو اس کے اندر تجسس کی روح (spirit of inquiry) جاگتی ہے جو آخر کار اس کو علم تک پہنچادیتی ہے۔ جب آدمی ایک بات کو نہ جانے تو اس کو اپنے نہ جاننے کا اعتراف کرنا چاہیے۔ اپنے نہ جاننے کا اعتراف بھی جاننے کی طرح ایک قدم ہے۔ اس مزاج کے بغیر کوئی آدمی علمی ترقی کی منزل تک نہیں پہنچ سکتا۔ 016 — تعلیم و تربیت پیغمبر اسلام کے ایک ساتھی کہتے ہیں کہ ایک چڑیا بھی اگر فضا میں اڑتی ہوئی دکھائی دیتی تو آپ اس سے ہم کو ایک علم کی یاد دہانی کراتے تھے (ما من طائر يطير بجناحيه إلا و هو يذكر لنا علماً)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader