Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ حدیث

Urdu book, p. 115

By Maulana Wahiduddin Khan

دعا دراصل عزم کی ایک صورت ہے۔ دعا کی حقیقت یہ ہے کہ آدمی پوری طرح ایک مقصد کے حصول میں لگ جائے۔ وہ اپنی حد تک سب کچھ کرتے ہوئے خدا سے یہ دعا کرے کہ وہ اس کی کوششوں کو کامیاب کرے۔ اس طرح دعا خود آدمی کے عمل کا ایک حصہ بن جاتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ علم کی کوئی حد نہیں۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ کسی مقام پر کے بغیر علم کے حصول کی کوشش میں لگا رہے ۔ وہ اس معاملہ کے تمام تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے علم میں اضافہ کے لیے برابر کوشاں رہے ۔ علم کی کوئی حد نہیں اس لیے حصول علم کی راہ میں جدوجہد کی بھی کوئی حد نہیں ۔ 019 ــــ بے جا عذر پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ آدمی ہمیشہ دو چیزوں کے فریب میں رہتا ہے۔ صحت اور فرصت ۔ یعنی وہ سوچتا رہتا ہے کہ جب صحت ہوگی تب کرلوں گا اور جب فرصت ہوگی تب کرلوں گا، مگر زندگی میں صحت اور فرصت کبھی آتی نہیں۔ چنانچہ وہ اسی دھوکہ میں رہتا ہے اور آخر کار مر جاتا ہے۔ عقل مند آدمی وہ ہے جس کا یہ حال ہو کہ وہ کسی عذر کو عذر نہ بنائے۔ جب بھی کوئی کام سامنے آئے وہ اس کو فوراً کر ڈالے۔ ابھی اور اسی وقت سے بہتر کام کرنے کا کوئی وقت نہیں: There is no better time to start than this very minute. 020 ــــ دل سے مسئلہ پوچھنا پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ اپنے دل سے فتوٰی پوچھ لو (استفت قلبك) اس حدیث میں قلب سے مراد وہی چیز ہے جس کو کامن سنس کہا جاتا ہے۔ انسان کو بار بار مسئلے پیش آتے ہیں۔ ان مسئلوں میں اس کو ہر بار مفتی سے فتویٰ پوچھنے کی ضرورت نہیں۔ اگر آدمی اپنے آپ کو نفسیاتی پیچیدگی سے پاک رکھے تو اس کا کام سن اس کے لیے بہترین رہنما بن سکتا ہے۔ اور یہ کامن سنس ایک ایسی چیز ہے جس کو کہیں ڈھونڈھنے کی ضرورت نہیں۔ وہ ہر وقت اور ہر جگہ آدمی کے ساتھ ہمیشہ موجود رہتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page