Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ حدیث

Urdu book, p. 118

By Maulana Wahiduddin Khan

کے سوا کچھ اور حاصل نہ ہوتا ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کے بے فائدہ کام میں مشغول ہونا ایک ایسا تعیش (luxury) ہے جس کا تحمل ایک با مقصد انسان نہیں کر سکتا۔ 026 — نفع بخشی قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اس دنیا کا نظام نفع بخشی کے اصول پر قائم ہے۔ یعنی جو شخص دوسروں کو نفع پہنچائے گا اس کو دوسروں سے فائدہ ملے گا۔ جتنا دینا اتنا پانا۔ اس اصول کے مطابق، جب بھی کسی کو محرومی کا تجربہ ہو تو اس کو یہ مان لینا چاہئے کہ ایسا اس لیے ہوا ہے کہ وہ اپنے آپ کو نفع بخش ثابت نہ کر سکا۔ اس نے دوسروں کو محروم رکھتا تھا اس لیے دوسروں نے بھی اس کو محروم کر دیا۔ اگر وہ دوسروں کو دیتا تو ضرور وہ بھی دوسروں سے پاتا۔ نفع بخشی کے اس اصول کا تعلق زندگی کے پورے معاملے سے ہے۔ اس کا تعلق خاندان سے بھی ہے اور سماج سے بھی۔ قومی زندگی سے بھی ہے اور بین اقوامی زندگی سے بھی۔ ہر انفرادی اور اجتماعی معاملے میں یہی اصول کارفرما ہے۔ اس کے مطابق، شکایت اور احتجاج کا طریقہ بالکل بے معنیٰ ہے۔ اس دنیا میں ہر شکایت اور ہر احتجاج خود اپنی کوتاہی کے خلاف شکایت اور احتجاج ہے۔ آدمی کو چاہئے کہ وہ شکایت اور احتجاج میں وقت ضائع نہ کرے، بلکہ پہلی فرصت میں اپنی کوتاہی کو دور کرنے کی کوشش کرے۔ وہ اپنے آپ کو دوسرے کے لیے نفع بخش بنائے۔ یہی مسئلہ کا واحد حل ہے۔ 027 — خاموشی میں نجات پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ جو چپ رہا اس نے نجات پائی۔ اس قول سے معلوم ہوتا ہے کہ جس طرح بولنا ایک کام ہے اسی طرح چپ رہنا بھی ایک کام ہے۔ جس طرح ایکشن لینا ایک کام ہے اسی طرح ایکشن نہ لینا بھی ایک کام ہے۔ جس طرح آگے بڑھنا ایک کام ہے اسی طرح پیچھے ہٹنا بھی ایک کام ہے۔ جس طرح طاقت کی پوزیشن میں فائدہ ہے اسی طرح تواضع کی پوزیشن میں بھی فائدہ ہے۔ چپ رہنا صرف نہ بولنے کا نام نہیں۔ چپ رہنا ایک تدبیر ہے۔ چپ رہنا خاموش منصوبہ بندی کا دوسرا نام ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ شور کی سیاست کے مقابلہ میں چپ کی سیاست زیادہ نتیجہ خیز ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page