حکمتِ حدیث
Urdu book, p. 135
By Maulana Wahiduddin Khan
نصیحت کی جائے۔ ایسے حالات پیدا کیے جائیں کہ اس کو اپنی غلطی کا احساس ہو اور وہ ظلم کو چھوڑنے پر راضی ہو جائے۔ ظالم کی مدد ظالم سے نفرت کرنا نہیں ہے بلکہ ظالم کے ساتھ خیر خواہی کرنا ہے۔ نفرت ظلم کو بڑھاتی ہے اور خیر خواہی ظلم کا خاتمہ کر دیتی ہے۔ 063 - نرم سلوک پیغمبر اسلام نے اپنے ساتھیوں کو ایک مہم پر بھیجا اور ان کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ تم لوگوں کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرنا کیوں کہ تم آسانی پیدا کرنے والے بنا کر بھیجے گئے ہو، تم دشواری پیدا کرنے والے بنا کر نہیں بھیجے گئے۔ اس حدیث کا تعلق ہر شعبہ میں کام کرنے والوں سے ہے۔ اس میں ہر ایک کے لیے نصیحت ہے۔ مثلاً ایک افسر کو اپنے ماتحتوں کے ساتھ اسی اصول پر کام کرنا ہے۔ ایک ٹیچر کو اپنے طلبہ کے ساتھ یہی معاملہ کرنا ہے۔ ایک مینیجر کو اپنی کمپنی والوں کے ساتھ اسی طرح پیش آنا ہے، وغیرہ۔ ہر آدمی کو چاہئے کہ وہ اس نصیحت کو دھیان میں رکھے۔ وہ یہ سمجھے کہ وہ جہاں ہے وہاں اس کو خدا کی طرف سے بھیجا گیا ہے۔ اسے لوگوں کو مشکل میں نہیں ڈالنا ہے بلکہ ان کے لیے آسانی کا راستہ تلاش کرنا ہے۔ 064 - رحم کا فارمولا پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ تم زمین والوں کے اوپر رحم کرو، آسمان والا تمہارے اوپر رحم کرے گا۔ یہ ایک سادہ اصول ہے جو ہر مرد اور عورت کے اندر خیر کے کام کا وہ جذبہ ابھارتا ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتا۔ ہر انسان خدا کی مدد کا محتاج ہے۔ ہر عورت اور مرد کو ضرورت ہے کہ وہ زندگی کے مختلف مراحل میں خدا کی مدد پاتا ہے۔ کوئی بھی شخص اس دنیا میں خدا کی مدد کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا۔ اپنے آپ کو خدا کی مدد کا مستحق بنانے کی سب سے آسان صورت یہ ہے کہ آدمی جو کچھ خود اپنے لئے خدا سے چاہتا ہے وہی وہ دوسروں کو دینے لگے۔ وہ چاہتا ہے کہ خدا اس کی مدد کرے تو اس کو بھی چاہئے کہ وہ دوسروں کا مددگار بن جائے۔ وہ چاہتا ہے کہ خدا اس کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرے تو وہ بھی دوسروں کے ساتھ نرمی کا معاملہ کرے۔ وہ چاہتا ہے کہ خدا اس کی کوتاہیوں سے درگزر کرے تو اس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader