Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ حدیث

Urdu book, p. 137

By Maulana Wahiduddin Khan

جاسکتا۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر انسان ایک ہی خدا کا پیدا کیا ہوا ہے۔ اس اعتبار سے تمام انسان یکساں طور پر قابل احترام ہیں۔ 067 — دشمن میں دوست قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اگر کوئی شخص تم کو اپنا دشمن دکھائی دے تو تم اس سے جوابی دشمنی نہ کرو بلکہ اس کے ساتھ اچھا سلوک کرو۔ اس یک طرفہ سلوک کا نتیجہ یہ ہوگا کہ تمہارا دشمن تمہارا دوست بن جائے گا۔ اسلام کی یہ تعلیم بتاتی ہے کہ دشمنی کوئی ابدی چیز نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر دشمن انسان میں ایک دوست انسان چھپا ہوا ہے۔ اپنے یک طرفہ حسن سلوک سے اس امکان کو واقعہ بناؤ، اپنے دشمن کو اپنے دوست میں تبدیل کر لو۔ جوابی حسن سلوک آدمی کے ضمیر کو جگاتا ہے اور جس آدمی کا ضمیر جاگ اٹھے وہ اس کے سوا کسی روش کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ دشمنی کو چھوڑ کر آپ کا دوست بن جائے۔ 068 — نرمی کے بغیر پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ جو شخص نرمی سے محروم ہے وہ ہر بھلائی سے محروم ہے۔ یہ حدیث ایک جامع اخلاقی اصول کو بتاتی ہے اور وہ بات چیت اور تعلقات میں نرمی ہے۔ جو آدمی نرمی کا انداز اختیار کرے وہ ہر معاملے میں اور ہمیشہ کامیاب رہے گا۔ کیوں کہ کوئی شخص ایسے آدمی کا دشمن نہیں بنے گا۔ اس کے برعکس جو آدمی دوسروں سے معاملہ کرنے میں نرمی کا انداز نہ برتے اس کا ہر کام بگڑتا چلا جائے گا کیوں کہ اس سے ہر ایک کو شکایت ہو جائے گی۔ اس کو مخالفوں اور دشمنوں کے درمیان رہنا پڑے گا۔ وہ گھر کے اندر اور باہر دونوں جگہ غیر ضروری مسائل میں الجھا رہے گا۔ 069 — سادگی کی عظمت پیغمبر اسلام نے فرمایا کہ سادگی ایمان کا ایک حصہ ہے۔ سادگی کو ایمان کا حصہ بتانا سادگی کی انتہائی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔ سادگی با مقصد انسان کا طریقہ ہے۔ با مقصد انسان اس کا تحمل نہیں کر سکتا کہ وہ سہولت اور عیش کی چیزوں میں مشغول ہو جائے اور اس طرح اپنے وقت اور طاقت کا ایک حصہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page