Urdu book · حکمتِ اسلام

انذارِ آخرت

Urdu book, p. 159

By Maulana Wahiduddin Khan

اندار آخرت سرونسٹن چرچل نے ۱۹۵۴ میں جنگ کے خلاف چیتاونی دیتے ہوئے کہا تھا کہ آج ساری دنیا جہنم کے کنارے پر گھوم رہی ہے : The world is roaming around the brim of hell. چرچل کے سامنے تیسری عالمی جنگ کا خطرہ تھا۔ انھوں نے اپنے انتباہ میں " جہنم " کا لفظ مجازی طور پر استعمال کیا تھا۔ مگر ایک باخبر مومن اور داعی کے لیے یہ مجاز نہیں ہے، بلکہ حقیقت ہے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ پوری دنیا ایک بھڑکتی ہوئی جہنم کے کنارہ کھڑی ہے۔ ہر آن یہ خطرہ ہے کہ کب وہ اس کے اندر گرپڑے تیسری عالمی جنگ کا خطرہ ٹل سکتا ہے ، مگر جہنم کا خطرہ اتنا یقینی ہے کہ اس سے اللہ کے متقی بندوں کے سوا کوئی بھی مامون و محفوظ نہیں ۔ تیسری عالمی جنگ کے خطرات سے جو لوگ آگاہ ہیں، وہ اس کو ٹالنے کے لیے رات دن سرگرم عمل ہیں۔ ایسی حالت میں جو لوگ جہنم کے شدید تر خطرات سے آگاہ ہیں ، ان کو سیکڑوں گنا زیادہ بڑھ کر سرگرم عمل ہونا چاہیے ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ اتنا بڑا مسئلہ ہے کہ آدمی کو اگر اس کا احساس ہو جائے تو اس کا دن کا سکون اور رات کی نیند اڑ جائے ۔ اس کی نفسیات کے اندر ایک ایسا بھو نچال آجائے کہ وہ چاہنے لگے کہ کاش میرا ہر بال ایک زبان ہوتا اور میں اپنی ساری قوت کو استعمال کرکے ساری دنیا کو آنے والے خطرہ سے آگاہ کر دیتا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصویر قرآن میں یہ بتائی گئی ہے کہ آپ لوگوں کو خدا کا مومن بنانے کے لیے اتنا زیادہ بے قرار رہتے تھے گویا کہ آپ اسی غم میں اپنے آپ کو ہلاک کر ڈالیں گے ۔ ( الشعراء ۳ ) بخاری وسلم میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی بابت فرماتے ہیں کہ میں تم لوگوں کی کمر پکڑ کر تم کو آگ میں جانے سے روک رہا ہوں اور تم لوگوں کا حال یہ ہے کہ تم آگ میں گرے جا رہے ہو (مشکاة المصابیح ۵۳/۱ ) جو مسئلہ جتنا زیادہ بڑا ہو اتنا ہی زیادہ ضرورت ہوتی ہے کہ اس کے لیے سرگرمی دکھائی جائے ۔ مومن کی نظر میں آخرت کا مسئلہ سب سے بڑا ہوتا ہے اس لیے وہ آخرت کے لیے سب سے زیادہ سرگرم ہوتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page