موت کے بعد
Urdu book, p. 165
By Maulana Wahiduddin Khan
موت کے بعد غزوہ بدر میں ابو جہل جب مہلک زخم کھا کر گرا اور مرنے کے قریب ہوا تو اس نے پوچھا کہ مجھ کو مارنے والا کون ہے۔ کسی نے بتایا کہ انصار کے ایک نوجوان نے اس کو قتل کیا ہے۔ ابو جہل یہ سن کر بولا: لو غیر اکا پر قتلنی (کاش کسان کے علاوہ کسی اور نے مجھ کو مارا ہوتا) ستمبر ۱۹۸۰ء کا واقعہ ہے۔ ڈنکرک فرانس کے ایک شخص نے خودکشی کر لی۔ اس کا نام جوزف ریڈ فورڈ (Joseph Redford) تھا۔ اس وقت اس کی عمر ۶۲ سال تھی۔ اس نے مہلک زہر کی خوراک کھائی۔ اس کے بعد وہ مقامی کریکیٹ کلب میں گیا تاکہ مرنے سے پہلے اپنے کلب کے ساتھیوں سے آخری مصافحہ کر سکے۔ اس نے کلب کے ممبروں سے کہا: Give me a whisky, I shall be dead in half an hour. مجھے کو شراب کا ایک گلاس دو۔ آدھ گھنٹہ کے بعد میں مرحباؤں گا (ہندوستان ٹائمز، نئی دہلی۔ (۱۹ ستمبر ۱۹۸۰ اس طرح کے واقعات بتاتے ہیں کہ انسان موت کو بس "خاتمہ" کا ایک معاملہ خیال کرتا ہے۔ وہ سمجھتا ہے کہ کچھ دن دنیا میں رہ کر ہمیشہ کے لیے مٹ جانے کا نام موت ہے۔ اس لیے وہ چاہتا ہے کہ جب وہ مرے تو عزت اور سکون کے ساتھ مرے۔ اس کے مردہ جسم کے اوپر مقبرہ کی صورت میں ایک شاندار یادگار قائم ہو جو موجود لوگوں کو ختم ہونے والے انسان کی عظمت یاد دلاتی رہے۔ مگر یہ سخت ترین قسم کی غلط فہمی ہے۔ موت، آدمی کی زندگی کا خاتمہ نہیں، وہ آدمی کی زندگی کے ایک نئے اور طویل تر دور کا آغاز ہے۔ آدمی اگر اس حقیقت کو جانے تو "قاتل" کا حسب نسب معلوم کرنے کے بجائے وہ خود اپنے اعمال نامہ کو پڑھنے کی کوشش کرے ، وہ بے خودی کی خوراک کھا کر بے خبر ہونے کے بجائے یہ چاہئے کہ وہ آخری حد تک با ہوش ہو جائے تاکہ کم از کم اپنے آخری لمحات کو ضائع ہونے سے بچا سکے۔ کتنا زیادہ فرق ہے بے خبر انسان اور با خبر انسان میں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader