Urdu book · حکمتِ اسلام

جنت کا استحقاق

Urdu book, p. 170

By Maulana Wahiduddin Khan

جنت کا استحقاق جنت بے حد عظیم نعمت ہے۔ وہ بے حد مہنگی قیمت پر کسی کو ملے گی۔ بہت تھوڑے خوش نصیب لوگ ہوں گے جو جنت کی لطیف دنیا میں بسائے جانے کے قابل ٹھہریں۔ جنت میں داخلہ کا پہلا امتحان یہ ہے کہ آدمی معرفت کے درجہ میں اپنے رب کو پائے۔ افکار و خیالات کے جنگل میں وہ سچائی کو دریافت کرے۔ وہ نہ دکھائی دینے والے واقعہ کو دیکھے۔ وہ نہ محسوس ہونے والی چیز کو محسوس کرے۔ وہ ظاہری ہنگاموں سے گزر کر باطن کی دنیا کا مسافر بن جائے۔ اسی طرح جنت میں داخلہ کی شرط یہ ہے کہ آدمی سرکشی کا اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کو خدا کے آگے جھکا دے۔ خود پرست بننے کے تمام محرکات کو نظر انداز کرتے ہوئے وہ سچا خدا پرست بن جائے۔ کشش اور جادبیت کے بے شمار مراکز سے منہہ موڑ کر وہ ہمہ تن خدا کی طرف متوجہ ہو جائے۔ اسی طرح جنت میں داخلہ صرف اس شخص کے لئے ممکن ہوگا جو منفی حالات کے درمیان ہمیشہ مثبت ذہن پر قائم رہے۔ جو اپنے سینے میں اٹھنے والے حسد اور گھمنڈ اور انتقام جیسے جذبات کو دفن کر کے یک طرفہ طور پر لوگوں کے لئے شفقت اور خیر خواہی کا پیکر بن جائے۔ جو ظلم اور بے انصافی کے مواقع کو پانے کے باوجود انہیں استعمال نہ کرے اور ہر حال میں اپنے آپ کو عدل و انصاف کا پابند بنا لے۔ جنت ایک نفیس ترین خدائی کالونی ہے۔ اس نفیس کالونی میں صرف وہی روحیں داخل ہوں گی جو آخرت میں اس طرح پہنچیں کہ دنیا میں انہوں نے اپنے اوپر تطہیر کا عمل کر لیا تھا۔ موجودہ دنیا امتحان کی دنیا ہے۔ یہاں ہر آدمی کثیف شخصیت کے ساتھ پیدا کیا جاتا ہے۔ اب ہر آدمی کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنی ذات پر خود تطہیری کا ایک مسلسل عمل شروع کرے ۔ یہاں تک

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page