Urdu book · حکمتِ اسلام

آخرت کی یاد

Urdu book, p. 175

By Maulana Wahiduddin Khan

آخرت کی یاد موجودہ دنیا اس طرح بنائی گئی ہے کہ وہ آدمی کے لئے آخرت کی پیشگی یاد دہانی ہے۔ دنیا کا ہر نقصان اس لئے ہے کہ آدمی آخرت کو یاد کرے اور یہ کہے کہ خدایا تو آخرت میں میرے نقصان کی تلافی فرما۔ دنیا کا آرام اس لئے ہے کہ آدمی آخرت کو یاد کر کے یہ کہہ سکے کہ خدایا، دنیا کا آرام وقتی ہے، تو مجھے آخرت کے ابدی آرام سے سر فراز فرما۔ دنیا اس لئے نہیں ہے کہ آدمی اس کو اپنا سب کچھ سمجھ لے۔ بلکہ دنیا اس لئے ہے کہ وہ آدمی کے لئے ایک ربانی تجربہ گاہ بن جائے ۔ وہ تخلیق کے ہر مشاہدہ میں خالق کا جلوہ دیکھنے لگے۔ انسانوں کے ساتھ ہر معاملہ اس کے سینہ میں داخل ہو کر روحانی تجربہ میں ڈھل جائے۔ دنیا اس کے لئے ایک ایسی گزرگاہ بن جائے جہاں اس کا ہر قدم اس کو آخرت کی منزل کی طرف لے جا رہا ہو ۔ انسان اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے جہاں بظاہر آخرت کا کوئی نشان نہیں ۔ مگر انسان کو فہم و بصیرت کی طاقت اس لئے دی گئی ہے کہ وہ محسوس دنیا میں غیر محسوس آخرت کا مشاہدہ کرے۔ دنیا کے تجربات کو وہ آخرت کے تجربات میں تبدیل کرتا رہے۔ دنیا کی تکلیف میں وہ جہنم کا ادراک کرے ۔ دنیا کی راحت اس کے لئے جنت کا ابتدائی تعارف بن جائے ۔ آخرت کی کامیابی کے لئے صرف یہ کافی نہیں ہے کہ آدمی کلمہ کو صحت تلفظ کے ساتھ دہرا دے۔ اسی کے ساتھ یہ بھی لازمی طور پر ضروری ہے کہ عقیدہ اس کے لئے ذاتی دریافت بن جائے۔ وہ اس کے شعور کی گہرائیوں میں تیر جائے ۔ وہ اس کے لئے مشاہدہ اور تجربہ کا درجہ حاصل کر لے۔ اس دنیا میں آدمی کو نہ دکھائی دینے والی حقیقت کو دیکھنا ہے۔ اس کو نہ سنائی دینے والی آوازوں کو سننا ہے۔ اندھیروں میں چھپی ہوئی حقیقت کو غیر مشتبہ یقین کی صورت میں پالینا ہے۔ ایسا ہی انسان وہ انسان ہے جس نے خدا کو پایا اور یہی وہ انسان ہے جس کے لئے آخرت میں جنت کے دروازے کھولے جائیں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page