Urdu book · حکمتِ اسلام

سب سے بڑی بھول

Urdu book, p. 178

By Maulana Wahiduddin Khan

سب سے بڑی بھول ڈک شان (Dick Shawn) ایک امریکی ایکٹر تھا۔ وہ فلم میں اور اسٹیج پر ہنسانے کا کردار ادا کرتا تھا۔ ۷ اپریل ۱۹۸۷ء کی رات کو وہ کیلی فورنیا کے مقام لا جولا (La Jalla) میں ایک تھیٹر ہال کے اندر ایکٹنگ کر رہا تھا اور اپنی تفریحی باتوں سے لوگوں کو ہنسار ہا تھا۔ ہال کے اندر چھ سو تماشائی بیٹھے ہوئے، اس کی تفریحی باتوں سے لطف لے رہے تھے۔ اس کی ایکٹنگ جاری تھی کہ اچانک وہ اسٹیج پر منھ کے بل گر پڑا۔ لوگوں نے سمجھا کہ یہ کوئی مذاق ہے جو اس نے اپنی ایکٹنگ کے جزء کے طور پر کیا ہے : People thought it was a joke, part of the act. ایکٹر اسی حال میں چند منٹ تک فرش پر پڑا رہا۔ یہاں تک کہ اس کے لڑکے ایڈم (Adam) کو شبہ ہوا۔ اس نے ایک ڈاکٹر کو بلایا۔ ڈاکٹر نے آکر دیکھا اور فوراً اسپتال لے جانے کا مشورہ دیا۔ ایمبولنس کے ذریعہ اس کو اسپتال پہنچایا گیا۔ اسپتال کے ڈاکٹروں نے جانچ کرنے کے بعد اعلان کیا کہ ڈک شان کا انتقال ہو چکا ہے۔ انتقال کا سبب غالباً دل کا دورہ (Heart attack) تھا۔ انتقال کے وقت اس کی عمر ۵۰ سال تھی (ٹائمس آف انڈیا ۲۰ اپریل ۱۹۸۷ء) اس دنیا میں کوئی شخص روتے ہوئے مر جاتا ہے اور کوئی شخص ہنستے ہوئے کسی پر اس کی موت بدحالی میں آجاتی ہے اور کسی پر خوش حالی میں ۔ کوئی خاک پر بیٹھا ہوا اس دنیا سے چلا جاتا ہے اور کوئی تختِ حکومت پر ۔ موت ایک ایسا انجام ہے جو ہر ایک پر آتا ہے خواہ وہ ایک حالت میں ہو یا دوسری حالت میں ۔ مگر موت ہی وہ سب سے بڑی حقیقت ہے جس کو انسان سب سے زیادہ بھولا ہوا ہے یہاں رونے والا اور ہنسنے والا دونوں ایک ہی حال میں مبتلا ہیں۔ وہ صرف اپنے آج کو جانتے ہیں، وہ اپنے کل کو نہیں جانتے۔ اگر وہ اپنے کل کو جان لیں تو ہنسنے والے کا حال بھی وہی ہو جائے جو رونے والے کا حال نظر آرہا ہے۔ یہ سب سے بڑی بھول ہے جس میں آج کا انسان مبتلا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page