Urdu book · حکمتِ اسلام

اسلام اور مغربی تہذیب

Urdu book, p. 17

By Maulana Wahiduddin Khan

تفکر و تدبر کے یہ نئے مواقع کس نے پیدا کئے ۔ اس کا جواب صرف ایک ہے اور وہ یہ کہ مغربی تہذیب کے تحت پیدا ہونے والی جدید سائنس نے ۔ خلاصہ کلام جدید مغربی تہذیب اسلام دشمن تہذیب کے طور پر نہیں، ابھری وہ خود اپنی مثبت طاقت کے زور پر پیدا ہوئی۔ تاہم اسی کے ساتھ اس میں کچھ ایسے غیر مطلوب اجزاء شامل ہو گئے جنہوں نے مغربی تہذیب اور مسلم دنیا کے درمیان تلخی پیدا کر دی۔ اس تلخی کے اسباب دونوں طرف تھے ، مغربی تہذیب کی طرف بھی اور مسلمانوں کی طرف بھی۔ مگر یہ صورت حال مسلم علماء اور دانشوروں کے لیے کوئی عذر فراہم نہیں کرتی۔ اس ناخوشگوار صورت حال کے باوجود مسلم علماء اور مسلم دانشوروں کا فرض تھا کہ وہ مغربی تہذیب کے حقیقی پہلو اور اس کے اضافی پہلو کے فرق کو سمجھیں ۔ وہ اضافی پہلو کو نظر انداز کر کے اس کے اصل پہلو کو دیکھیں اور اس کو اپنے حق میں استعمال کریں۔ یہ غلطی جو ماضی میں کی گئی وہ بلا شبہ نہایت مہلک تھی۔ مغربی تہذیب اسلام کی تائید کے طور پر ابھری تھی مگر اہل اسلام نے غلط فہمی کی بنا پر اس کو اپنا دشمن سمجھ لیا۔ وہ الناس اعداء ما جھلوا کے مصداق بن گئے۔ اب آخری وقت آ گیا ہے کہ اس امکان کو واقعہ بنایا جائے۔ مسلم علماء اور دانشوروں کو چاہئے کہ وہ اپنی غلطی کا احساس کریں۔ وہ اکیسویں صدی میں اس غلطی کو نہ دہرائیں جس کا ارتکاب وہ بیسویں صدی میں کرتے رہے ہیں ۔ وہ مغربی تہذیب کے پیدا کردہ مواقع کو بھر پور طور پر استعمال کر کے اسلام کی جدید تاریخ بنائیں ۔ یہ مواقع ماضی میں بھی خدا کے دین کے لیے تھے اور آج بھی وہ خدا کے دین کے لیے ہیں۔ مسلمان صدیوں سے اونٹ اور گھوڑے پر یہ کہہ کر سواری کرتے رہے ہیں کہ : سبحان الذي سخر لنا هذا وما كنا له مقرنین ۔ اب وقت آ گیا ہے کہ وہ اس دعا کا نیا استعمال دریافت کریں۔ وہ صنعتی دور کی طاقتوں کو کلمۂ اسلام کی سربلندی کے لیے استعمال کرنے کا ثبوت دیں اور اس طرح دنیا اور آخرت میں خدا کی نصرتوں کے مستحق بنیں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page