Urdu book · حکمتِ اسلام

معرفتِ حق

Urdu book, p. 184

By Maulana Wahiduddin Khan

معرفت حق موجودہ زمانہ میں بہت سے مسلمان ہیں جن کا حال یہ ہے کہ وہ انتہائی ذوق و شوق کے ساتھ حج کے لیے جائیں گے اور واپس آکر نہایت والہانہ اور عاشقانہ انداز میں حج کا سفر نامہ لکھ کر شائع کریں گے۔ دوسری طرف انھیں لوگوں کو آپ دیکھیں گے کہ وہ اپنے مسلمان بھائی کے ساتھ حقارت کا معاملہ کر رہے ہیں۔ وہ اس کا مذاق اُڑا رہے ہیں۔ اس کے خلاف بے بنیاد الزام گھڑ کر اس کو زبان و قلم کے ذریعہ پھیلا رہے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو بندۂ مومن کی تحقیر کرتے ہیں۔ اور جب حرم کی اور حرم مدنی کا ذکر ہو تو وہ نہایت درجہ تعظیم کے الفاظ بولتے ہیں۔ حالانکہ حدیث میں آیا ہے کہ مومن کا عزت و احترام کعبہ کے عزت و احترام سے بھی زیادہ ہے (المؤمن اكرم حرمة من الكعبة) اس فرق کا سبب کیا ہے۔ اس کا سبب ان عاشقین مدینہ کی بے بصیرتی ہے۔ وہ حقائق ظاہری کو تو خوب دیکھتے ہیں مگر حقائق معنوی ان کو دکھائی نہیں دیتے۔ ان کو وہ اسلام نظر آتا ہے جو تاریخی عظمت ، مادی شوکت اور انسانوں کی بھیڑ کے ساتھ نمایاں ہو رہا ہو۔ اور جو اسلام ظواہر سے خالی ہو۔ جس کو جاننے کے لیے جوہر شناسی اور معرفت باطنی کی صلاحیت درکار ہو۔ اس کے ادراک سے وہ بے بہرہ رہتے ہیں۔ قدیم عرب کے جن لوگوں کو قرآن میں اندھا اور بہرہ بتایا گیا ان کا معاملہ یہی تھا۔ وہ ”حرم کی“ کا تو خوب احترام کرتے تھے مگر انھوں نے رسولؐ اور اصحاب رسول کی بے حرمتی کی۔ کیوں کہ ”حرم “ کی سطح پر جو دین تھا اس میں ان کو تاریخی عظمتیں دکھائی دے رہی تھیں۔ اس کے برعکس رسول اور اصحاب رسول کا دین الہی تاریخی عظمتوں اور مادی شوکتوں سے خالی تھا۔ اس وقت رسول والے دین کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے جوہر شناسی کی صلاحیت درکار تھی جس سے وہ محروم تھے۔ چنانچہ انھیں اندھا اور بہرا قرار دے دیا گیا۔ ایمان معرفت حق کا نام ہے۔ مومن وہ جوہر شناس انسان ہے جو سچائی کو اس کے بے آئینہ روپ میں دیکھے، جو ظواہر سے بلند ہو کر حقائق کو دریافت کر لے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page