خوش خبری
Urdu book, p. 190
By Maulana Wahiduddin Khan
خوش خبری ابن اسحاق کہتے ہیں کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جب امر حق کا اعلان کیا تو آپ کو وہاں کے لوگوں کی طرف سے سخت اذیت اور مخالفت کا سامنا کرنا پڑا۔ آپ کی اہلیہ خدیجہ بنت خویلد فوراً ہی آپ پر ایمان لے آئیں ۔ اب تک وہ آپ کی زندگی میں شریک تھیں، اب وہ آپ کی مصیبتوں میں شریک ہوگئیں۔ مخالفین آپ کے گرد جمع ہو کر شور مچاتے طرح طرح سے آپ کو ستانے کی تدبیریں کرتے۔ یہی حالات تھے کہ ایک روز خدا کے فرشتہ جبر یل آپ کے گھر آئے۔ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ خدیجہ کو ان کے رب کی طرف سے سلام پہنچا دیجئے ۔ اس کے بعد جبریل نے کہا کہ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں خدیجہ کو ایک ایسے گھر کی خوش خبری دے دوں جو موتیوں کا ہے، جہاں نہ شور ہے اور نہ تکلیف (أُمِرْتُ أَنْ أُبَشِّرَ خَدِيجَةَ بِبَيْتٍ مِنْ قَصَبِ لاَ صَخَبَ فِيهِ وَلَا نَصَب) سيرة ابن ہشام ۲۵۹/۱ یہ حضرت خدیجہ کے لیے بشارت ہے اور عام اہل ایمان کے لیے نصیحت۔ خدیجہ کے لیے وہ کامیابی کی پیشگی خبر تھی اور دوسروں کے لیے وہ کامیابی کی طرف رہ نمائی۔ مومن کو موجودہ دنیا میں سرکش انسانوں کی طرف سے اذیتیں پیش آتی ہیں۔ ان کا شور اور ان کے اشتعال انگیز الفاظ سننے پڑتے ہیں۔ ایسے موقع پر مومن کو یہ نہیں کرنا ہے کہ وہ ایسے لوگوں سے لڑنے لگے ۔ اس کے برعکس مومن کو چاہیے کہ وہ ان کو نظر انداز کرنے کرتے ہوئے اپنی توجہ آخرت کی طرف موڑ دے۔ وہ اللہ تعالیٰ سے کہے کہ خدایا، مجھے ان ناخوش گواریوں پر صبر کی توفیق دے اور میرے لیے جنت میں ایک ایسا گھر بنا دے جہاں نہ کوئی تکلیف ہو اور نہ کسی قسم کا شور وغل ۔ دنیا میں ایک آدمی خدا پرستی کا پیغام لے کر کھڑا ہو، اور انسان پرست لوگ اس سے بگڑ کر اس کے خلاف شور وغل کریں۔ وہ اللہ کے لیے عمل کرنے کی طرف پکارے۔ مگر لوگ اس کو ستانے اور پریشان کرنے کے در پے ہو جائیں۔ ان سب کے باوجود وہ صبر کرے تو ایسے شخص کے لیے اللہ کا یہ فیصلہ ہے کہ اس کو اگلی دنیا میں قیام کرنے کے لیے ایسا نفیس ماحول دے گا جہاں وہ ابدی طور پر شور اور تکلیف دونوں سے محفوظ رہ کر پر راحت زندگی گزار سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader