Urdu book · حکمتِ اسلام

رہبانیت

Urdu book, p. 192

By Maulana Wahiduddin Khan

رہبانیت ثم قفينا علی آثارهم برسلنا وقفینابعیسی پھر ہم نے ان کے نقش قدم پر اپنے رسول ابن مریم وآتيناه الانجيل وجعلنا فی بھیجے اور انھیں کے نقش قدم پر عیسی بن مریم قلوب الذين اتبعوه رأفة ورحمة کو بھیجا اور ہم نے اس کو انجیل دی۔ اور جن ورهبانية ابتدعوها ما كتبناها عليهم الا لوگوں نے اس کی پیروی کی ان کے دلوں میں ابتغاء رضوان الله فما رعوها حق ہم نے شفقت اور رحمت رکھ دی۔ اور رہبانیت رعایتھا کو مسیحیوں نے خود نکالا، ہم نے اس کو ان پر (الحدید ۲۷) نہیں لکھا تھا۔ ہم نے ان کے اوپر صرف اللہ کی رضا چاہنا فرض کیا تھا۔ پھر انھوں نے اس کی پوری رعایت نہ کی۔ اس آیت میں رہبانیت سے مراد یہ ہے کہ آدمی خدا کے نام پر دنیا کو چھوڑ دے۔ حضرت مسیح علیہ السلام کی تعلیمات وہی تھیں جو پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات ہیں۔ مگر حضرت مسیح کے دوسو سال بعد ان کے پیروؤں میں بگاڑ آگیا۔ ان کا ایک طبقہ رہبانیت میں پڑ گیا۔ وہ لوگ دنیا کو چھوڑ کر جنگلوں اور پہاڑوں میں چلے گئے اور دنیوی چیزوں سے بے تعلق ہو کر شدید قسم کی مشقت برداشت کرنے لگے۔ (تفصیل کے لیے انسائیکلو برطانیکا ، جلد ۱۲، مقاله: (Monasiticism) ان کا یہ ترک دنیا مذہب کے معاملہ میں غلو اور تشدد سے پیدا ہوا۔ ان کو زہد کی تعلیم دی گئی تھی جس کا مطلب نفسیاتی زہد تھا۔ مگر انھوں نے نفسیاتی زہد کے حکم کو جسمانی زہد کا حکم قرار دے لیا۔ ان سے کہا گیا تھا کہ دنیا میں مشغول ہو مگر دنیا کو مطلوب و مقصود نہ بناؤ۔ مگر انھوں نے مطلوبیت دنیا کی نفی کو مشغولیت دنیا کی نفی کے ہم معنی سمجھ لیا۔ یہی ہے حکم خداوندی کی صحیح رعایت نہ کرنا۔ مومن انسانوں کے درمیان زندگی گزارتا ہے مگر اس کی توجہ خدا کی طرف لگی رہتی ہے۔ وہ بظاہر مادی کام میں مشغول دکھائی دیتا ہے۔ مگر اس کا ذہن روحانی سطح پر سرگرم رہتا ہے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے ایک ایسا انسان بن جاتا ہے جو آخرت میں بسیر ایسے سوئے ہو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page