Urdu book · حکمتِ اسلام

خدا اور بندہ

Urdu book, p. 202

By Maulana Wahiduddin Khan

خدا اور بندہ علی بن ربیعہ کہتے ہیں کہ میں نے علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کو دیکھا۔ ان کے پاس سواری کے لیے ایک جانور لایا گیا۔ جب انھوں نے اپنا پاؤں اس کے رکاب میں رکھا تو کہا بسم اللہ۔ پھر جب وہ اس کی پیٹھ پر بیٹھ گئے تو کہا الحمد للہ، سبحان الذی سخر لنا هذا وما كنا له مقرنین وانا الی ربنا لمنقلبون ۔ اس کے بعد انھوں نے تین بار اللہ کی حمد کی اور تین بار اللہ کی تکبیر کی ۔ پھر کہا: سُبحانَکَ لَا الٰهَ إِلَّا اَنْتَ وَقَدْ ظَلَمْتُ نَفْسِيْ فَاعْفِرْ لِی۔ راوی کہتے ہیں کہ اس کے بعد حضرت علی ہنس پڑے۔ میں نے پوچھا کہ اے امیر المومنین، آپ کس بات پر ہنسے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا ہے کہ آپ نے سوار ہوتے ہوئے وہی کہا جو میں نے کہا۔ پھر آپ ہنس پڑے۔ میں نے پوچھا کہ اے خدا کے رسول، آپ کیوں ہنسے ۔ آپ نے فرمایا : عجب الرب تبارك وتعالى من عبده اذا قال بنده جب کہتا ہے کہ اے میرے رب، مجھے بخش رب اغفرلی - ويقول علم عبدى انه لا يغفر دے تو اللہ تعالیٰ اس پر تعجب کرتا ہے اور خوش ذنوب غيرى - ہوتا ہے۔ وہ فرماتا ہے کہ میرے بندہ نے اس کو جانا کہ میرے سوا کوئی بھی گناہوں کو بخشنے والا نہیں۔ (تفسیر ابن کثیر ۲ / ۱۲۴) رب اغفر لی (میرے رب، مجھے بخش دے) کہنا کوئی سادہ سی بات نہیں۔ یہ ایک عظیم ترین دریافت کے نتیجہ میں نکلنے والا کلمہ ہے جو ایک مومن کی زبان سے نکل پڑتا ہے۔ یہ کلمہ کسی کی زبان سے اس وقت نکلتا ہے جب کہ وہ غیب کے پردے کو پھاڑ کر خدا کی موجودگی کو دریافت کرے۔ یہ آزادی کے باوجود اس بات کا اقرار ہے کہ میں اپنی آزادی کو بے قید استعمال کرنے کا حق نہیں رکھتا۔ یہ حشر کو دیکھے بغیر حشر کے واقعہ پر یقین لانا ہے۔ یہ اعمال کے اخروی نتائج کی حقیقت کا اس وقت اقرار کرنا ہے جب کہ ابھی وہ ظاہر نہیں ہوئے۔ یہ خدا کے ہونے سے پہلے خدا کے جلال و جبروت کے آگے جھک جانا ہے۔ یہ کلمہ معرفت کا کلمہ ہے، اور معرفت بلاشبہ اس دنیا کا سب سے بڑا عمل ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page