انسان کدھر
Urdu book, p. 205
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کدھر ہندوستان کے سابق وزیراعظم راجیو گاندھی (۱۹۴۴۔۱۹۹۱) پارلیمنٹ کے دسویں الیکشن مئی ۱۹۹۱) کی مہم چلا رہے تھے۔ وہ ملک کا طوفانی دورہ کرتے ہوئے ۲۱ مئی ۱۹۹۱ کو اپنے مخصوص ہوائی جہاز کے ذریعہ تامل ناڈو پہنچے۔ وہ ہوائی اڈہ مینم پکم (Meenampakkam) پر اترے۔ یہاں وہ اپنی بلٹ پروف گاڑی میں بیٹھے اور ۳۰ سے زیادہ کاروں کے قافلہ کے ساتھ سری پرم بودور (Sriperumbudur) کے لیے روانہ ہوئے جہاں انہیں ایک الیکشن میٹنگ کو خطاب کرنا تھا۔ رات کو ۱۰ بجے وہ پنڈال کے اندر عوام کی طرف سے گلدستے وصول کر رہے تھے۔ اسی دوران ایک ۲۵ سالہ عورت اپنے دونوں ہاتھ میں پھولوں کا ایک گلدستہ لیے ہوئے راجیو گاندھی کی طرف بڑھی۔ راجیو بھی احساس فتح کے ساتھ اس کی طرف بڑھے۔ کیوں کہ ہر جگہ عوامی استقبال نے انہیں یقین دلایا تھا کہ اس الیکشن کے بعد وہ ملک کے وزیراعظم بننے والے ہیں۔ عورت نے قریب آکر اپنا گلدستہ راجیو گاندھی کی طرف بڑھایا۔ مگر اس عورت کا تعلق خودکش دستہ (suicide squad) سے تھا اور وہ اپنے جسم پر خطرناک بم باندھے ہوئے تھی۔ راجیو گاندھی نے گلدستہ اپنے ہاتھ میں لیا ہی تھا کہ بم پھٹ گیا۔ راجیو گاندھی پوری طرح اس کی زد میں آگئے۔ ان کا جسم ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا۔ اسی لمحہ ان کی موت واقع ہو گئی۔ بظاہر یہ بم کا دھماکہ تھا، مگر حقیقت یہ موت کا دھماکہ تھا جو ہر انسان کے لیے مقدر ہے۔ اس اعتبار سے یہ صرف راجیو گاندھی کی کہانی نہیں بلکہ ہر انسان کی کہانی ہے۔ ہر آدمی یہ سمجھتا ہے کہ وہ کامیابی کی طرف بڑھ رہا ہے۔ ہر آدمی کا ہاتھ خوشیوں کے گلدستہ پر ہے۔ مگر اصل حقیقت اس کی امیدوں کے بالکل برعکس ہے ۔ جس چیز کو آدمی گلدستہ سمجھ کر وصول کر رہا ہے وہ اس کے لیے ہلاکت کا بم ہے۔ اس سے مستثنیٰ صرف وہ لوگ ہیں جن کو موت سے پہلے اپنے رب کی معرفت حاصل ہوئی، جنہوں نے اپنی زندگی کو رب کائنات کی اطاعت میں گزارا۔ جن کی موت اس حال میں آئی کہ وہ اپنے پرچہ امتحان کو کامیابی کے ساتھ حل کر چکے تھے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader