Urdu book · حکمتِ اسلام

نماز کی حقیقت

Urdu book, p. 226

By Maulana Wahiduddin Khan

نماز کی حقیقت یہ عصر کی نماز تھی ۔ امام نے نماز پوری کرکے سلام پھیرا، تھوڑی دیر بیٹھے اور اس کے بعد دعا کرکے اٹھ گئے۔ ایک مقتدی نے امام صاحب کو روکا۔ اور تضحیک کے انداز میں بولے: ”عصر کی نیت کی تھی یا ظہر کی؟“ یہ سن کر تمام نمازی ہنس پڑے جو پہلے ہی سے امام صاحب کو عجیب معنی خیز نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ میں نے مذکورہ مقتدی سے پوچھا کہ کیا بات ہے۔ انھوں نے جواب دیا کہ ”عصر کے وقت تسبیح (فاطمہ) پڑھی جاتی ہے۔ مگر امام صاحب نے تسبیح پڑھے بغیر دعا کر لی اور اٹھ گئے یہ خیریت یہ ہے کہ امام صاحب نے کسی قسم کا کوئی جواب نہیں دیا۔ خاموشی کے ساتھ اپنے حجرہ میں چلے گئے۔ اگر انھوں نے کوئی تیز جواب دیا ہوتا تو یقیناً بات بڑھتی اور زبانی تنقید باقاعدہ ہاتھا پائی میں تبدیل ہو جاتی۔ یہ ایک مثال ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ مسلمانوں کے درمیان آج کل نماز کا کیا حال ہے۔ وہ نماز کو صرف اس کے ڈھانچے کے اعتبار سے جانتے ہیں۔ فرق اگر ہے تو صرف یہ کہ کچھ لوگ ”مسنون“ ڈھانچہ کو نماز سمجھے ہوئے ہیں اور کچھ لوگوں نے مبتد عانہ طور پر اس میں کچھ غیر مسنون چیزوں کا اضافہ کر لیا ہے۔ نماز کا بلا شبہ ایک ڈھانچہ ہے۔ مگر نماز کی اصل حقیقت اس کی اندرونی اسپرٹ ہے، اور یہ اندرونی اسپرٹ خشوع ہے۔ حتی کہ اگر کسی کی نماز میں ظاہری ڈھانچہ ہو مگر اس میں خشوع کی کیفیت نہ پائی جائے تو ایسی نماز حدیث کے مطابق نماز ہی نہیں (لا صلوة لمن لم يتخشع) ڈھانچہ والی نماز اور خشوع والی نماز کی ایک پہچان یہ ہے کہ جو آدمی ڈھانچہ والی نماز پڑھے، اس کی نظر دوسرے کی نماز پر ہوتی ہے ۔ اور جو آدمی خشوع والی نماز پڑھے اس کی نظر اپنی نماز پر۔ پہلی قسم کا آدمی دوسروں کی نماز میں ”ٹیکنکل“ خامی نکال کر ان کے خلاف تقریر کرے گا۔ اور دوسری قسم کا آدمی خود اپنی نماز کی کمیوں کو سوچ کر چپ رہے گا۔ وہ اپنے احتساب میں اتنا زیادہ مشغول ہوگا کہ اس کو یہ فرصت ہی نہ ہوگی کہ وہ دوسروں کی نماز پر تبصرہ کرے۔ نماز اللہ کی یاد کا نام ہے، اور اللہ کی یاد کسی آدمی کے اندر جو کیفیت پیدا کرتی ہے اسی کو خشوع کہا گیا ہے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page