Urdu book · حکمتِ اسلام

تہجد کی حقیقت

Urdu book, p. 234

By Maulana Wahiduddin Khan

آپ اپنے رب سے امیدوار ہیں کہ وہ آپ کی کو تاہیوں کو نہ دیکھے بلکہ اپنی شان کریمی کے تحت آپ سے معاملہ فرمائے۔ اگر آپ فی الواقع اس پکار میں سچے ہیں تو اس کا نتیجہ یہ ہونا چاہئے کہ دنیا کی زندگی میں جب آپ کا معاملہ ایسے شخص سے پڑے جس کے اوپر آپ قابو یافتہ ہوں تو آپ کو اللہ کے مقابلہ میں اپنی بے بسی یاد آجائے اور آپ اس کی کو تاہیوں سے درگزر کریں۔ آپ کو اللہ کے عذاب کا ڈر ہے ۔ آپ اس کی پکڑ سے بچنے کے لئے اس سے دعا کرتے رہے ہیں۔ ایسی حالت میں ضروری ہے کہ جب کوئی انسان آپ کی گرفت میں آ جائے تو آپ اس کے ساتھ غصہ اور انتقام کے تخت کار روائی نہ کریں بلکہ فیاضی اور حسن سلوک کے ساتھ معاملہ کر کے اللہ سے کہیں کہ خدایا تو بھی مجھ سے فیاضی کا معاملہ فرما۔ آپ اللہ کی بڑائی کے مقابلہ میں اپنی عاجزی کا اعتراف کر رہے ہیں، اس اعتراف میں آپ اس وقت سنجیدہ ہیں جب کہ آپ کا یہ حال ہو کہ آپ ایک انسان پر قدرت پالیں اور اس پر اپنی کبر یائی کا مظاہرہ کر سکتے ہوں مگر اس وقت آپ کو اللہ کے مقابلہ میں اپنی عاجزانہ حیثیت یاد آ جائے اور آپ اپنے رب سے یہ کہتے ہوئے اس شخص کو چھوڑ دیں کہ خدایا میں نے اس سے درگزر کیا تو بھی مجھ سے درگزر فرما۔ اس کے برعکس اگر آپ کا حال یہ ہو کہ آپ اللہ کے سامنے عاجزی کے کلمات دہرائیں اور اس کے بعد بندوں کے ساتھ گھمنڈ اور سرکشی کا طریقہ اختیار کریں۔ اللہ سے اپنی خطاؤں کی معافی مانگیں اور اپنے بھائی کی خطائیں معاف کرنے کے لئے تیار نہ ہوں۔ اللہ سے امیدوار ہوں کہ وہ آپ کی حاجتیں پوری کرے اور آپ کا سابقہ جب کسی دوسرے محتاج انسان سے پڑے تو اس کی حاجت پوری کرنے کا کوئی جذبہ آپ کے اندر نہ ابھرے۔ تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ دعا کے ساتھ عمل صالح (دعا کے موافق عمل نہیں کر رہے ہیں۔ آپ اپنی دعا میں محسن نہیں ہیں۔ ایسی دعا کی اللہ کے نزدیک کوئی قیمت نہیں۔ ایسی دعا حقیقتاً دعا نہیں بلکہ سوا نگ ہے اور سوا نگ کسی شخص کو سنزا کا مستحق بناتا ہے نہ کہ انعام کا۔ دعا کا مطلب یہ نہیں کہ کچھ برکت والے الفاظ ہیں ، ان کو رٹ کر صحبت ادا کرنے کے ساتھ دہرادو اور پھر ان کے جادوئی اثرات ظاہر ہونے لگیں گے ۔ خدا اور بندے کا معاملہ اس قسم کا مشینی معاملہ نہیں ہے۔ خدا الفاظ کو نہیں خود آپ کی ہستی کو دیکھتا ہے۔ خدا کو وہ کلمات درکار ہیں جو آدمی کی اپنی پکار بن کر نکلے ہوں۔ جو اس واقعہ کا ایک فطری اظہار ہوں کہ بندہ صرف ایک اللہ سے ڈرتا ہے اور صرف اسی سے امید رکھتا ہے ۔ اس کے احساسات اپنے رب سے اس طرح وابستہ ہوگئے ہیں کہ ہر آن وہ اس سے مصروفِ کلام رہتا ہے ، کبھی دل سے اور کبھی زبان سے ۔ دعا دراصل گھلے ہوئے دل کا یقینا بانہر پر باہر نکل آنا ہے۔ جب کوئی بندہ اس معنی میں دعا کرنے والا بن جائے تو اس کا پورا وجود دعامیں ڈھل جاتا ہے۔ دعا کے الفاظ اور اس کی ہستی الگ الگ نہیں رہتے۔ وہ اندر سے بھی وہی ہوتا ہے جو بظاہر دعامیں دکھائی دیتا ہے۔ اس کی دعا جس طرح خدا کے سامنے اس کے سوال کا منظر ہوتی ہے اسی طرح وہ بندوں کے مقابلہ میں اس کے کردار کو بتاتی ہے۔ یہ ایک ہی حقیقت ہے جو خدا کے سامنے تضرع کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے اور بندوں کے مقابلہ میں تواضع اور عدم استکبار کی صورت میں۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page