Urdu book · حکمتِ اسلام

روزہ اور دعا

Urdu book, p. 245

By Maulana Wahiduddin Khan

روزہ اور دعا قرآن کی سورہ نمبر ۲ میں رمضان کے روزہ کے احکام بیان کئے گئے ہیں۔ عین اسی کے درمیان دعا کی آیت ہے۔ چنانچہ ارشاد ہوا ہے کہ : اور جب میرے بندے تم سے میری بات پوچھیں تو میں بالکل قریب ہوں۔ پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں جب کہ وہ مجھے پکارتا ہے۔ تو چاہئے کہ وہ میرا حکم مانیں اور مجھ پر یقین رکھیں ۔ امید ہے کہ وہ ہدایت پائیں گے (البقرہ ۱۸۶) یہ ترتیب بتاتی ہے کہ روزہ اور دعا کے درمیان خاص تعلق ہے۔ روزہ دار انسان عین اسی وقت ایک دعا گو انسان ہوتا ہے۔ روزہ دعا کے ساتھ خصوصی مناسبت رکھتا ہے۔ دعا کیا ہے۔ دعا تڑپتے ہوئے دل کی پکار ہے۔ وہ نفسیاتی سوز کا ایک لفظی اظہار ہے۔ روزہ یہی تڑپ اور یہی سوز و گداز پیدا کرتا ہے۔ روزہ آدمی کے اندر اخبات کی وہ کیفیت پیدا کرتا ہے جس سے آدمی کے اندر سچی دعا ابٹنے لگے۔ شام کو روزہ کی تکمیل کے وقت جب آدمی یہ کہتا ہے کہ خداایا، میں نے تیرے حکم سے روزہ رکھا ، اور تیرے حکم سے میں نے افطار کیا، تو یہ صرف کچھ الفاظ نہیں ہوتے ۔ یہ دراصل ایک روحانی تجربہ ہوتا ہے جو لفظوں میں ڈھل جاتا ہے۔ اسی طرح مہینہ بھر روزہ آدمی کے اندر عجز وگداز کی کیفیات پیدا کرتا ہے اور اس کے تحت آدمی بار بار خصوصی دعاؤں کا تجربہ کرتا ہے۔ یہاں تک کہ روزہ کا مہینہ پورا ہو جاتا ہے، اس وقت خدا کا شکر ادا کرتے ہوئے اس کی زبان سے نکل جاتا ہے کہ خداایا ، تو میرے بقیہ تمام مہینوں کو روزہ کے اس مبارک مہینہ کے تابع کر دے۔ خداایا ، میں نے تیرے حکم کی تعمیل کردی ، اب تو بھی میری دعاؤں کو قبول کرلے۔ روزہ گویا دعا کی تیاری ہے۔ روزہ آدمی کو چارج کرتا ہے تاکہ وہ حقیقی طور پر دعا کے قابل ہو سکے۔ وہ مطلوب کیفیات کے ساتھ خدا کو پکارنے لگے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page