Urdu book · حکمتِ اسلام

خدا اور آخرت

Urdu book, p. 271

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی طرح کامل یقین کر لیتا ہے جس طرح ایک بچہ اپنی ماں کے وجود پر کامل یقین رکھتا ہے ۔ حالاں کہ اس نے کبھی اپنے آپ کو ماں کے پیٹ سے نکلتے ہوئے نہیں دیکھا۔ خدا اور آخرت کا معاملہ صرف اس وقت تک منطقی بحث کا موضوع رہتا ہے جب تک کہ آدمی کے ذہن کا مصنوعی پردہ ہٹانہ ہو۔ غور و فکر یا منطقی استدلال کے ذریعہ جب یہ پردہ ہٹ جائے تو انسان اپنے خدا کو خود اپنی داخلی معرفت کے تحت پہچان لیتا ہے۔ اب خدا اس کے لیے تمام معلوم چیزوں سے زیادہ معلوم واقعہ بن جاتا ہے۔ منطقی دلیل کا کام صرف یہ ہے کہ وہ انسان کو فطرت کے دروازے تک پہنچادے۔ فطرت کا دروازہ کھلتے ہی انسان خدا کو اس طرح پالیتا ہے جیسے کہ وہ پہلے ہی سے اس کو جانتا تھا۔ انسان کی آنکھ پر پٹی بندھی ہوئی ہو تو ضرورت ہوتی ہے کہ سورج کے وجود کو اس کے لیے دلائل سے ثابت کیا جائے۔ لیکن جب آنکھ کی پٹی ہٹادی جائے تو اس کے بعد سورج کو ماننے کے لیے اسے کسی دلیل کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہی معاملہ خدا کا ہے۔ خدا کا شعور انسان کی فطرت میں آخری حد تک سمایا ہوا ہے۔ اصل ضرورت صرف فطرت کا پردہ ہٹانے کی ہے۔ دلیل کے ذریعہ جب فطرت کا پردہ ہٹا دیا جائے تو انسان خدا کو اس سے بھی زیادہ یقین کے ساتھ دیکھنے لگتا ہے جتنا کہ ایک کھلی آنکھ والا انسان آفتاب کو۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page