دعوت کا عمل
Urdu book, p. 277
By Maulana Wahiduddin Khan
مسلمانوں کی طرف سے کسی دعوتی کوشش کے بغیر اسلام اپنے آپ نہایت تیزی سے پورے کرۂ ارض میں پھیل رہا ہے۔ مسلمان اپنی منفی سیاست کی بنا پر اپنی مسجدوں میں غیر مسلم قوموں کے لیے اللهم اھلکهم، اللهم دمر ديارهم کی بددعائیں کر رہے تھے۔ مگر خدا اس کے برعکس غیرمسلموں کے دل میں دین حق کی آواز پہنچا رہا تھا۔ یہاں تک کہ یہ غیر مسلم قومیں تیزی سے اسلام کی طرف مائل ہونے لگیں ۔ مذہب کے حوالے سے حال میں جو عالمی جائزے شائع ہوئے ہیں ان کے مطابق، اس وقت صرف امریکا میں ہر سال تقریباً ایک لاکھ (100,000) لوگ اسلام قبول کر رہے ہیں۔ مختلف عالمی جائزوں کے مطابق، اسلام اس وقت ہر دوسرے مذہب کے مقابلہ میں زیادہ تیز رفتاری سے بڑھ رہا ہے۔ چنانچہ ان رپورٹوں میں اس قسم کے الفاظ پڑھنے کو ملتے ہیں : 1. Islam is the fastest growing religion in the world. 2. Islam is world's fastest growing religion. 3. The religion of Islam is growing faster than any other religion in the world. (Radiance weekly, New Delhi, 19-25 Dec. 2004) اسلام کی یہ تیز رفتار اشاعت اتفاقی نہیں ہے۔ وہ مسلمانوں کی کسی دعوتی کوشش کا نتیجہ بھی نہیں۔ وہ مکمل طور پر خدا کی منصوبہ بندی کے تحت پیش آیا ہے۔ یہ واقعہ خدا کے اس قانون کے تحت ظاہر ہوا ہے جس کو مذکورہ حوالہ کے مطابق بابل میں اس طرح کہا گیا تھا کہ انسان اگر نہ بولیں تو پتھر بولیں گے (If man failed to speak, stones would speak)۔ چنانچہ جب مسلمانوں نے دوسری قوموں کو قابل نفرت سمجھ کر ان کو اسلام کی طرف بلانا چھوڑ دیا تو "پتھر" خدا کی طرف سے بولنے لگے۔ اس تاریخی عمل کو سمجھنے کے لیے یہاں اس نوعیت کی کچھ مثالیں درج کی جاتی ہیں۔ ۱۔ اس سلسلہ میں غالباً پہلی تبدیلی وہ ہے جس کو پرنٹنگ پریس کہا جاتا ہے۔ قدیم زمانہ میں کتابیں ہاتھ سے لکھی جاتی تھیں۔ یہ ایک بہت دیر طلب کام تھا۔ کیوں کہ لمبی مدت کے بعد صرف چند کتابیں ہاتھ سے لکھ کر تیار کی جاسکتی تھیں۔ پرنٹنگ پریس کی دریافت نے اس کو ممکن بنا دیا کہ کسی کتاب

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader