Urdu book · حکمتِ اسلام

ڈرو اُس سے جو وقت ہے آنے والا

Urdu book, p. 285

By Maulana Wahiduddin Khan

ڈرو اس سے جو وقت ہے آنے والا ۲۵ جولائی ۲۰۰۴ کا واقعہ ہے۔ صبح کے وقت میں دہلی میں اپنے دفتر میں بیٹھا ہوا تھا۔ پاس کے درختوں سے چڑیوں کے چہچہانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔ پھر میں نے اپنا ریڈیو کھولا تو آل انڈیا ریڈیو نئی دہلی کے صبح کے نشر یہ میں ایک مذہبی گیت سنائی دینے لگا۔ اس کی ایک لائن یہ تھی: سجن رے جھوٹ مت بولو خدا کے پاس جانا ہے نہ ہاتھی ہے نہ گھوڑا ہے وہاں پیدل ہی جانا ہے اس تجربہ کے بعد مجھے ایسا محسوس ہوا جیسے کہ ریڈیو کا گیت اور چڑیوں کا نغمہ دونوں ایک ہیں۔ گویا کہ ریڈیو اسی حقیقت کا اعلان ملفوظ زبان میں کر رہا ہے جس کا اعلان اس سے پہلے چڑیاں غیر ملفوظ زبان میں کر رہی تھیں۔ دونوں کا پیغام ایک ہے_ اے انسان ، تو جس دنیا میں ہے وہ خدا کی دنیا ہے۔ تیری کامیابی کا راز یہ ہے کہ تو اس بنیادی حقیقت کو جانے اور اپنی زندگی کو اس حقیقت کے مطابق ڈھال لے۔ زندگی امتحان کی ایک مدت ہے اور موت اس مدت امتحان کا خاتمہ۔ موت گویا مالک کائنات کی طرف سے انسان کی گرفتاری ہے۔ موت کے بعد ہر عورت اور مرد خدا کی عدالت میں پہنچا دیے جاتے ہیں تا کہ وہ وہاں اپنے قول و عمل کا حساب دیں۔ اسی حساب کی بنیاد پر ہر عورت اور مرد کے مستقبل کا فیصلہ کیا جاتا ہے۔ خدا کے حکم پر چلنے والوں کے لیے جنت کا فیصلہ، اور خدا کے حکم کے خلاف چلنے والوں کے لیے جہنم کا فیصلہ۔ لوگ ہر سال اپنا برتھ ڈے مناتے ہیں۔ وہ خوش ہوتے ہیں کہ ان کی زندگی کا ایک اور سال پورا ہو گیا۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ وہ ہر سال اپنا ڈتھ ڈے منائیں_ وہ ہر سال یاد کریں کہ ان کی مقررہ زندگی کا ایک اور سال کم ہو گیا۔ اس دنیا میں ہر عورت اور مرد ایک محدود مدت کے لیے آتے ہیں_ پچاس سال، نوے سال، بہت سے بہت سو سال۔ اس کے بعد ہر ایک کے لیے مقدر ہے کہ وہ اپنی عمر کی طے شدہ مدت پوری کر کے مر جائے۔ اس لحاظ سے دیکھیے تو ہر عورت اور ہر مرد کا مسلسل کاؤنٹ ڈاؤن ہو رہا ہے۔ ہر نیا سال جب آتا ہے تو وہ ہر عورت اور ہر مرد کی عمر کا ایک سال اور کم کر دیتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page