ناشکری کا فتنہ
Urdu book, p. 292
By Maulana Wahiduddin Khan
سب سے زیادہ عجیب پہلو یہ ہے کہ جو مسلم عالم یا دانشور مسلمانوں کی بدحالی پر لکھتے یا بولتے ہیں وہ خود تقریبا بلا استثناء ایک خوش حال زندگی گزار رہے ہیں۔ کم از کم میں نے اپنی لمبی عمر میں جس شخص کو بھی مسلمانوں کے مسائل پر لکھتے یا بولتے ہوئے دیکھا وہ اسی کی مثال تھا۔ یعنی وہ اپنے باپ دادا کے زمانہ کے مقابلہ میں آج بہت زیادہ بہتر زندگی گزار رہا تھا۔ اس کے باوجود وہ مسلمانوں کی مفروضہ حالت پر مرثیہ خوانی کر رہا تھا۔ ایک بار میں نے دیکھا کہ ہندوستان کے ایک نوجوان عالم ایک عرب ملک میں گئے۔ وہاں انہوں نے اپنے ایک بیان میں کہا کہ ہندوستان کے مسلمان چکی کے دو پاٹوں کے درمیان پس رہے ہیں (مسلموا الھند بین فکی الروحی) یہ مسلمان عالم ماشاء اللہ فربہ جسم کے تھے۔ ان کے لباس اور ان کے چہرہ پر خوش حالی نمایاں تھی۔ ان کے لہجہ میں بھی سکون اور اعتماد جھلک رہا تھا۔ میں نے کہا کہ میرے بھائی، آپ بھی تو ایک ہندوستانی شہری ہیں پھر کیسے آپ اس عام تباہی سے بچ گئے اور اگر آپ کے پاس ایسا کوئی نسخہ ہے جس کے ذریعہ آدمی تباہی کی عمومی حالت میں بھی شاندار زندگی حاصل کر سکے تو آپ بربادی کی داستان بتانے کے بجائے مسلمانوں کو یہی ذاتی نسخہ بتائیے۔ غور و فکر کے بعد میں اس نتیجہ پر پہنچا ہوں کہ یہ کوئی سادہ بات نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ شیطان ہر زمانہ میں ایک عمومی فتنہ برپا کرتا ہے۔ کسی انسان کا سب سے بڑا ٹسٹ یہ ہوتا ہے کہ وہ اس عمومی فتنہ سے اپنے آپ کو بچا سکے۔ میرے نزدیک قدیم زمانہ کا فتنہ شرک تھا۔ اس زمانہ میں شیطان نے فکر و عمل کے تمام نقشوں کو اس طرح شرک کے رنگ میں رنگ دیا تھا کہ ہر عورت اور مرد اس کے اثر میں آگئے ۔ ہر ایک نے مشرکانہ کلچر کو اختیار کر لیا۔ یہ صورت حال جاری رہی، یہاں تک کہ رسول اور اصحاب رسول کے ذریعہ اللہ تعالیٰ نے اس فتنہ کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیا۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ موجودہ زمانہ کا فتنہ ناشکری کا فتنہ ہے جو یقینی طور پر شیطان کا پیدا کردہ ہے۔ شیطان کا طریقہ یہ ہے کہ وہ حالات کا غلط مطالعہ کراتا ہے اور اس طرح لوگوں کو بے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader