فرضی نام
Urdu book, p. 306
By Maulana Wahiduddin Khan
فرضی نام قرآن میں ایک سے زیادہ مقامات پر یہ بات کہی گئی ہے کہ پیغمبروں نے جب اپنی قوموں کے سامنے توحید خالص کی دعوت پیش کی اور ان کے مزعومہ شریکوں کا انکار کیا تو لوگوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا۔ انھوں نے کہا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ ہم صرف ایک اللہ کے عبادت گزار بنیں اور ان کو چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے رہے ہیں۔ پیغمبر نے جواب دیا کہ کیا تم لوگ مجھ سے ان ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں، جن کی کوئی سند خدا نے نہیں اتاری (اتجادلونی فی اسماء سمیتموھا انتم و آباءکم ما نزل اللہ بھا من سلطان) الاعراف ے نام رکھنے کا مطلب یہ ہے کہ ایک عاجز چیز کو طاقت ور چیز کہنا۔ ایک پتھر کی مورت کو ایسے نام سے پکارنے لگنا جو اس کے لیے سزاوار نہیں۔ مثلاً قدیم عرب میں قبیلہ قریش کا ایک بت تھا جس کو وہ پوجتے تھے۔ اصل حقیقت کے اعتبار سے وہ صرف ایک بے جان پتھر تھا۔ مگر قریش نے اس کا نام عزّیٰ رکھ دیا تھا۔ عزّیٰ کا لفظ اعزّ کا مؤنث ہے۔ یعنی بہت معزز، بہت طاقت ور۔ قدیم زمانہ میں اس طرح کے بے اصل نام زیادہ تر بتوں کے ہوا کرتے تھے۔ موجودہ زمانہ میں پریس کے رواج نے اسی نوعیت کی ایک اور برائی کو بہت بڑے پیمانہ پر پیدا کیا ہے۔ اس نئی برائی کو اکابر پرستی کہا جا سکتا ہے۔ موجودہ زمانہ میں ہر قوم اپنی محبوب شخصیتوں کو بڑے بڑے لقب دیتی ہے۔ اس لقب کو پریس اور میڈیا کے ذریعہ مشہور کر کے لوگوں کے دماغوں میں اس طرح بٹھا دیا جاتا ہے کہ وہ کہنے لگتے ہیں کہ یہ شخصیتیں واقعۃً ویسی ہی ہیں جیسا کہ ان کے لقب میں انھیں بتایا گیا ہے قطب الاقطاب، غوث الاعظم، قائد اکبر، حکیم مشرق، حضرت اقدس، مجاہدِ اسلام، علامہ زماں، شہیدِ اعظم، مجتہد العصر، امام حریت، وغیرہ، سب اسی قسم کے نام ہیں جو لوگوں نے بطور خود رکھ لیے ہیں۔ انھیں مصنوعی وصفہ القاب کا یہ نتیجہ ہے کہ ان شخصیتوں پر کوئی تنقید کی جائے تو لوگ فوراً بگڑ جاتے ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ فلاں شخص تو "حضرت اقدس" ہے، اس پر کیسے تنقید کی جاسکتی ہے، حالاں کہ حضرت اقدس کچھ لوگوں کا اپنا گھڑا ہوا نام ہے نہ کہ خدا کی طرف سے آیا ہوا لقب۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader