نکاح اور طلاق
Urdu book, p. 53
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کا ایک بدل یقینی طور پر ممکن ہے۔ اور وہ یہ کہ علمائے ہند نے جس طرح شاہ بانو بیگم کے مشہور کیس میں حکومت ہند سے مطالبہ کر کے پارلیمنٹ سے ایک قانون بنوایا تھا اسی طرح اس معاملہ میں بھی حکومت سے مطالبہ کر کے ہندوستانی پارلیمنٹ میں ایک قانون منظور کرایا جائے۔ اس قانون میں یہ طے کیا جائے کہ جو مسلمان ایک مجلس میں اپنی بیوی کو تین طلاق دے گا تو اس کی طلاق تو واقع کر دی جائے گی مگر اسی کے ساتھ شوہر کو اپنے اس غیر شرعی فعل کی سخت سزا بھی بھگتنی ہوگی۔ راقم الحروف کے نزدیک وہ سزا یہ ہونی چاہیے کہ جس شوہر نے ایک مجلس میں تین طلاق دینے کا غیر شرعی فعل کیا ہے اس سے جرمانہ کے طور پر بھاری رقم وصول کی جائے اور یہ پوری رقم مطلقہ عورت کو دے دی جائے۔ بالفرض اگر یہ شوہر نقد رقم دینے کی پوزیشن میں نہ ہو تو اس کو طویل مدت کے لیے قید با مشقت (rigorous imprisonment) کی سزا دی جائے۔ اس معاملہ میں مانع جرم سزا (deterrent punishment) ضروری ہے۔ اس سے کم سزا اس معاملہ میں مفید نہیں ہوسکتی۔ ہورہی ہے، اس طرح اس کے مسائل میں مزید اضافہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader