حکمتِ قرآن
Urdu book, p. 76
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کی فطرت میں پیدائشی طور پر معرفت کا احساس رکھ دیا گیا ہے۔ مگر اس خفتہ احساس کو متحرک (activate) کرنے کے لیے خارجی مدد کی ضرورت ہے۔ خدا کا کلام یہی خارجی مدد فراہم کرتا ہے۔ خدا کے کلام سے رہنمائی پانے کے بعد انسان کا حال یہ ہوتا ہے جیسے اندھیرا گھر روشن ہو جائے یا سوکھا ہوا باغ لہلہا اٹھے۔ زمین میں فساد نہیں قرآن کی سورہ نمبر ۷ میں انسان کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ وہ خدا کی زمین میں خدا کے تخلیقی نقشہ کے مطابق رہے، وہ اس سے انحراف نہ کرے۔ مذکورہ قرآنی آیت کا ترجمہ یہ ہے: پس ناپ اور تول پوری کرو۔ اور مت گھٹا کر دو لوگوں کو ان کی چیزیں۔ اور فساد نہ ڈالو زمین میں اس کی اصلاح کے بعد (الاعراف ۸۵) خدا نے اس زمین کو ایک اصلاح یافتہ زمین کے طور پر پیدا کیا ہے۔ یہاں ہر چیز اپنی معیاری صورت میں ہے۔ مثال کے طور پر انسان کے سوا جو دنیا ہے وہاں عدل اور پوری ادائگی کا اصول قائم ہے۔ یہ گویا ایک اصلاحی نظام ہے جو خدا کی زمین پر قانونِ فطرت کے تحت قائم کیا گیا ہے۔ انسان کو بھی اپنی زندگی میں اسی اصلاحی اصول کو اختیار کرنا ہے۔ اس کے خلاف چلنا گویا زمین میں فساد برپا کرنا ہے۔ بناؤ میں بگاڑ کو داخل کرنا ہے۔ اس معاملہ کا ایک پہلو یہ ہے کہ زمین میں ہر چیز کو نہایت متناسب انداز (right proportion) میں رکھا گیا ہے۔ سورج کی روشنی، بارش اور ہوا ہر چیز میں ایک خاص تناسب قائم ہے۔ زمین کی سطح پر سبزہ اور جنگلات سوچے سمجھے اندازہ کے مطابق اگائے گئے ہیں۔ انسان کے بقا اور ترقی کا راز یہ ہے کہ وہ فطرت کے اس اصلاحی نقشہ کو برقرار رکھے۔ زمین کے اندر فطرت کا جو نظام ہے وہ گویا ایک ماڈل ہے۔ انسان کو بھی اسی ماڈل پر اپنی زندگی کی تشکیل کرنی ہے۔ انسان اگر ایسا کرے کہ وہ فطرت کے اس ماڈل کو اپنی زندگی میں اختیار نہ کرے، اسی کے ساتھ وہ مزید یہ سرکشی کرے کہ وہ فطرت کے نظام کو بدل دے، مثلاً ہوا میں گیسوں کے فطری

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader