حکمتِ قرآن
Urdu book, p. 78
By Maulana Wahiduddin Khan
ہے ۔ اس کے برعکس جو آدمی اشتعال کی صورت پیش آنے پر نہ بھڑک کے وہ ایسا کر کے یہ ثابت کر رہا ہے کہ وہ بلند انسانی مرتبہ پر ہے، وہ صحیح معنوں میں اعلیٰ انسان کہے جانے کا مستحق ہے۔ یقین و اعتماد قرآن کی سورہ نمبر ۹ میں پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک واقعہ بیان کیا گیا ہے۔ پیغمبر اسلام مکہ میں پیدا ہوئے ۔ وہاں اُن کی سخت مخالفت ہوئی۔ اس کے بعد وہ ۶۲۲ء میں مکہ سے مدینہ چلے گئے۔ یہ ایک بے حد خطر ناک سفر تھا۔ دو ہفتہ کے اس سفر کے دوران ایک بار وہ ایک غار (ثور) میں چھپے ہوئے تھے۔ آپ کے مخالفین جو آپ کی تلاش میں نکلے تھے، وہ تلوار لیے ہوئے غار کے منھ تک پہنچ گئے۔ اُس وقت آپ کے واحد ساتھی ابو بکر صدیق تھے۔ انہوں نے یہ منظر دیکھا تو کہا کہ اے خدا کے رسول، وہ تو یہاں بھی پہنچ گئے۔ اس کے بعد قرآن کا بیان یہ ہے ــــ اذ يقول لصاحبه لا تحزن ان الله معنا : جب پیغمبر اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ غم نہ کرو، اللہ ہمارے ساتھ ہے (التوبہ ۴۰) موجودہ زندگی میں بار بار ایسا ہوتا ہے کہ انسان کسی ایسی صورت حال میں مبتلا ہو جاتا ہے جہاں وہ اپنے آپ کو بے یارو مددگار سمجھنے لگتا ہے۔ اس حالت میں اُس کو ضرورت ہوتی ہے کہ کوئی ایسی ذات ہو جس پر وہ یقین کر سکے ۔ جو اُس کے عجز کی تلافی بن جائے ۔ خدا کی ذات پر یقین آدمی کو یہی اٹھا سہارا دیتا ہے ۔ خدا تمام طاقتوں کا مالک ہے۔ اس لیے خدا پر یقین آدمی کو ایک ایسی ہمت دیتا ہے جو کبھی نہ ٹوٹے۔ خدا کا عقیدہ کسی آدمی کے لیے حوصلہ کا سب سے بڑا خزانہ ہے۔ جس آدمی کو خدا کی ذات پر پورا یقین ہو جائے وہ کسی بھی حال میں بے حوصلہ نہیں ہوگا۔ وہ کسی بھی حال میں اس احساس سے دوچار نہیں ہوگا کہ اُس کا راستہ بند ہے۔ وہ ہر حال میں آگے بڑھتا چلا جائے گا۔ زندگی کی آخری منزل تک پہنچنے میں کوئی بھی چیز اُس کے لیے رکاوٹ نہیں بنے گی۔ خدا کا یہ عقیدہ انسان کی اپنی صلاحیتوں کو جگا دیتا ہے۔ وہ انسان کے اندر ایک نیا عزم پیدا کر دیتا ہے۔ وہ اس کی داخلی قوتوں کو متحرک کر کے ایک بے حوصلہ انسان کو با حوصلہ انسان بنا دیتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader