Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ قرآن

Urdu book, p. 80

By Maulana Wahiduddin Khan

نفس اماره، نفس لوامہ قرآن آن میں بتایا گیا ہے کہ ہر انسان کے اندر دو مختلف قسم کی صلاحیتیں (faculties) ہیں۔ ایک نفس اماره (یوسف (۵۳) اور دوسرے نفس لوامه (القيامه (۲) انسان کے اکثر اعمال انہی دونوں صلاحیتوں کے تحت انجام پاتے ہیں، خواہ وہ فرد سے تعلق رکھتا ہو یا جماعت سے۔ قرآن کی اس آیت میں نفس اماره سے مراد برائی کا حکم دینے والا نفس ہے۔ اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو انانیت (ego) کہا جاتا ہے۔ اس کے مقابلہ میں نفس لوامہ سے مراد ملامت کرنے والا نفس ہے۔ اس سے مراد وہی چیز ہے جس کو ضمیر (conscience) کہا جاتا ہے۔ اجتماعی زندگی کا اصول یہ ہے کہ جب دو آدمیوں یا دو پارٹیوں کے درمیان کوئی مسئلہ پیش آئے تو اس وقت سارا فیصلہ اس پر منحصر ہوتا ہے کہ آدمی کے ایگو (ego) کو جگایا گیا ہے یا اس کے ضمیر کو جگایا گیا ہے۔ اگر آپ آدمی کے ایگو کو جگائیں تو اس کا نتیجہ بگاڑ کی صورت میں ظاہر ہوگا۔ When one's ego is touched it turns into super ego and the result is breakdown. اس کے برعکس اگر آدمی کے ضمیر کو پچ (touch) کیا جائے تو اس کے اندر اعتراف اور شرمندگی کا جذبہ جاگ جائے گا اور فیصلہ انصاف کے مطابق ظاہر ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی آپ کا معاملہ کسی شخص سے پیش آئے یا اُس کے ساتھ کوئی نزاع قائم ہو جائے تو اُس وقت گویا نتیجہ مکمل طور پر خود آپ کے اختیار میں ہوتا ہے۔ اگر آپ اپنی کسی اشتعال انگیز کارروائی سے فریق ثانی کے ایگو (نفس امارہ) کو بھڑکا دیں تو اُس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ فریق ثانی آپ کے لیے مخالف کے روپ میں ابھرے گا۔ وہ آپ کی اشتعال انگیزی کا جواب نفرت اور تشدد کی صورت میں دے گا۔ اس کے برعکس اگر آپ اختلاف و نزاع کے موقع پر صبر و اعراض کا طریقہ اختیار کریں تو ایسی صورت میں فریق ثانی کی طرف سے آپ کو بالکل مختلف قسم کا تجربہ پیش آئے گا۔ اب ایسا ہوگا کہ بظاہر جو آدمی آپ کا حریف بنا ہوا تھا وہ آپ کے لیے ایک بے ضرر انسان بن جائے گا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page