Urdu book · حکمتِ اسلام

حکمتِ قرآن

Urdu book, p. 84

By Maulana Wahiduddin Khan

کے مطابق ، اس دنیا میں شکر کرنے سے اضافہ ہوتا ہے ۔ یہ قانون قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے : اور جب تمہارے رب نے تم کو آگاہ کر دیا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو زیادہ دوں گا ۔ اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بڑا سخت ہے (ابراہیم ۷) قرآن کی اس آیت میں جو بات کہی گئی ہے وہ کوئی پراسرار بات نہیں ۔ وہ معلوم اسباب کے تحت پیش آنے والا ایک واقعہ ہے ۔ یہ واقعہ ہر ایک کے ساتھ پیش آتا ہے ، فرد کے لیے فرد کی حیثیت سے اور گروہ کے لیے گروہ کی حیثیت سے ۔ شکر دراصل اعتراف (acknowledgement) کا نام ہے ۔ انسان کی نسبت سے جس چیز کو اعتراف کہا جاتا ہے اُسی کو خدا کی نسبت سے شکر کہا گیا ہے ۔ شکریہ ہے کہ خدا نے آدمی کو جو کچھ دیا ہے ، دل کی گہرائیوں کے ساتھ وہ اس کا اعتراف کرے ۔ یہ شکر یا اعتراف کوئی سادہ چیز نہیں ۔ اُس کا رشتہ نہایت گہرائی کے ساتھ آدمی کی نفسیات سے جُڑا ہوا ہے ۔ شکر کرنے والے آدمی کے اندر تواضع ، حقیقت پسندی ، اعترافِ حق ، سنجیدگی اور ذمہ داری کا احساس پیدا ہوتا ہے ۔ یہ احساسات اُس کے کردار میں نمایاں ہوتے ہیں جو اُس کو ترقی کی طرف لے جاتے ہیں ۔ اس کے برعکس معاملہ ناشکری کا ہے ۔ ناشکری سے آدمی کے اندر سرکشی ، حقیقت سے اعراض ، بے اعترافی ، غیر سنجیدگی اور غیر ذمہ داری جیسی پست صفات پیدا ہوتی ہیں ۔ اور جس آدمی کے اندر اس قسم کی پست صفات پائی جائیں اُس کی ترقی یقینی طور پر رُک جائے گی ۔ حتیٰ کہ ممکن ہے کہ وہ ملے ہوئے کو بھی کھو دے۔ سبق لینے والے قرآن کی سورہ نمبر ۱۵ میں بعض تاریخی واقعات کا ذکر کیا گیا ہے ۔ یہ واقعات قوموں کے عروج و زوال کی داستان کو بتاتے ہیں ۔ ان تاریخی واقعات کی طرف اشارہ کرتے ہوئے قرآن میں کہا گیا ہے: بے شک اس میں نشانیاں ہیں متوسمین کے لیے (الحجر ۷۵) عربی زبان میں وسم کے معنی علامت کے ہوتے ہیں ۔ توسُم کے معنیٰ ہیں ، کسی چیز کو علامت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page