Urdu book · ایمانی طاقت

سچائی کا زور

Urdu book, p. 18

By Maulana Wahiduddin Khan

سچائی کا زور ابن ہشام نے نقل کیا ہے کہ مکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سب سے پہلے جس نے لوگوں کے سامنے با آواز بلند قرآن پڑھا وہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ تھے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب ایک روز جمع ہوئے۔ انھوں نے کہا: خدا کی قسم قریش نے ابھی تک اس قرآن کو بلند آواز سے نہیں سنا۔ کیا کوئی ہے جو قریش کے لوگوں کو قرآن سنائے۔ حضرت عبداللہ بن مسعود نے کہا، میں سناؤں گا۔ عبداللہ بن مسعود دبلے اور کمزور جسم کے تھے۔ مکہ میں ان کا کوئی قبیلہ بھی نہ تھا جو ان کی حمایت کرے۔ وہ اس وقت لوگوں کی بکریاں چراتے تھے اور ’’ابن ام عبد‘‘ کے نام سے جانے جاتے تھے۔ چنانچہ آپ کے ساتھیوں نے کہا کہ تمھارے بارے میں ہمیں ڈر ہے۔ اس کام کے لئے ہم ایسا آدمی چاہتے ہیں جس کا مکہ میں قبیلہ ہو اور قریش جب اس پر حملہ کریں تو اس کا قبیلہ قریش کو روکے۔ عبداللہ بن مسعود نے کہا: مجھے جانے دو، کیونکہ اللہ میری مدد کرے گا۔ حضرت عبداللہ بن مسعود روانہ ہوئے اور اس مقام پر پہنچے جہاں قریش کے لوگ جمع تھے۔ وہ ان کے پاس کھڑے ہوگئے، بسم اللہ الرحمن الرحیم کہا اور اس کے بعد بلند آواز سے سورہ رحمن پڑھنا شروع کیا۔ وہ پڑھتے رہے یہاں تک کہ قریش نے آپس میں پوچھنا شروع کیا کہ یہ ’’ابن ام عبد کیا پڑھ رہا ہے‘‘ کسی نے کہا کہ یہ اس کلام کا کوئی حصہ ہے جو محمد (صلی اللہ علیہ وسلم) پر اتر رہا ہے۔ یہ سن کر وہ اٹھے اور عید اللہ بنی مسعود کے منھ پر مارنا شروع کیا۔ تاہم وہ برابر پڑھتے رہے۔ اس کے بعد جب عبداللہ بن مسعود اپنے ساتھیوں کے پاس واپس آئے تو ان کے چہرے پر مار کا نشان ظاہر ہو چکا تھا۔ لوگوں نے دیکھ کر کہا: تمھارے بارے میں ہم کو اسی کا اندیشہ تھا۔ عبداللہ بن مسعود نے کہا: خدا کے دشمن آج مجھ کو جتنا کمزور معلوم ہوئے اتنا کمزور مجھے کبھی معلوم نہیں ہوئے تھے اور اگر تم چاہو تو کل پھر میں اسی طرح جاکر ان کو قرآن سناؤں گا (رما اعداء اللہ اھون علی منھم الآن ولئن شئتم لا غادينھم بمثلھاغدا، سيرۃ ابن ھشام، جزء اول، صفحہ ۳۳) ایک کمزور اور بے سہارا آدمی کے اندر یہ قوت کہاں سے آئی کہ وہ کسی مادی تحفظ کے بغیر دشمنوں کے مجمع میں گھس گیا اور ان کو بلند آواز سے وہ کلام سنانے لگا جس کا سننا ان کو سب سے زیادہ ناگوار تھا۔ اس قوت کا راز سچائی پر یقین ہے۔ عبداللہ بن مسعود کو کامل یقین تھا کہ وہ حق پر ہیں اور قریش باطل پر۔ قریش نے جب عبداللہ بن مسعود کو مارنا شروع کیا تو ان کا یقین اور بڑھ گیا۔ کیوں کہ ان کے دل نے کہا کہ قریش کے پاس دلیل کی زبان میں ان کے جواب کے لئے کچھ نہیں ہے۔ ان کی جارحیت صرف اس بات کا ثبوت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page