Urdu book · ایمانی طاقت

دو لاکھ کے مقابلہ میں تین ہزار

Urdu book, p. 20

By Maulana Wahiduddin Khan

دو لاکھ کے مقابلہ میں تین ہزار صلح حدیبیہ کے بعد ۵ھ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دعوتی خطوط اطراف کے حکمرانوں کے نام روانہ کئے، ان میں سے ایک خط حاکم بصریٰ کے نام تھا۔ جو آپ نے حارث بن عمیر ازدی رض کے ہاتھ روانہ کیا۔ وہ آپ کا مکتوب لے کر شام کے سرحدی مقام موتہ پہنچے تھے کہ وہاں کے حاکم شرحبیل بن عمرو غسانی نے ان کو گرفتار کر لیا اور اس کے بعد قتل کرا دیا۔ یہ شرحبیل قیصر روم کی طرف سے اس علاقہ کا حاکم تھا۔ اس واقعہ سے ان سابقہ خبروں کی تصدیق ہو گئی کہ رومی حکومت مدینہ کی اسلامی حکومت کے بارے میں جارحانہ ارادے رکھتی ہے۔ چنانچہ جب حضرت حارث کے قتل کی خبر مدینہ پہنچی تو آپ نے اس غسانی حاکم کی جارحیت کا جواب دینے کے لئے فوراً ایک فوج روانہ کی۔ اس فوج میں تین ہزار مسلمان تھے اور اس کا سردار حضرت زید بن حارثہ رض کو بنایا گیا تھا۔ زید بن حارثہ رض کی قیادت میں یہ لشکر روانہ ہو کر معان (شام) پہنچا تو معلوم ہوا کہ غسانی حاکم نے دوسرے قبائل کی مدد سے ایک لاکھ کی فوج جمع کر لی ہے، اس کے ساتھ خود قیصر روم ایک لاکھ فوج کے ساتھ اس کی مدد پر آرہا ہے۔ اس خبر کے بعد اسلامی فوج معان میں دو دن تک رکی رہی اور باہم مشورے ہوتے رہے، بہت سے لوگوں کی رائے تھی کہ تین ہزار اور دو لاکھ کا تناسب بہت غیر معمولی ہے، اس لئے ہم کو چاہئے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو خط لکھ کر صورت حال سے مطلع کریں۔ تاکہ آپ یا تو ہماری مدد کے لئے مزید فوج بھیجیں یا دوسرا مناسب حکم دیں، آخر عبد اللہ بن رواحہ کھڑے ہوئے اور انھوں نے مسلمانوں کو ابھارتے ہوئے کہا: اے لوگو خدا کی قسم جس سے تم گھبرا رہے ہو وہ تو وہی چیز ہے جس کی طلب میں تم نکلے ہو۔ یعنی شہادت۔ ہم گنتی یا قوت یا کثرت کی بنا پر نہیں لڑتے۔ ہم تو اس دین کے ذریعہ لڑتے ہیں جس سے اللہ نے ہم کو عزت دی ہے، پس آگے بڑھو۔ کیوں کہ اس کا نتیجہ دو میں سے ایک خوبی سے خالی نہیں ۔ یا فتح یا شہادت (سیرت ابن ہشام) حضرت عبداللہ بن رواحہ کی اس تقریر کے بعد لوگ بول اٹھے: خدا کی قسم ابن رواحہ نے صحیح کہا۔ چنانچہ لوگ آگے بڑھے اور اس قدر بے جگری سے لڑے کہ دشمنوں کو پیچھے دھکیل دیا۔ اس جنگ میں اگرچہ مسلمانوں کی کافی جانیں گئیں۔ مگر دو لاکھ رومیوں کے مقابلہ میں تین ہزار نے محض اپنے ایمان کی بدولت ایسی بہادری دکھائی کہ رومی ہمیشہ کے لئے مرعوب ہو گئے اور اس کے بعد وہ کبھی مسلمانوں پر فتح نہ پاسکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page