Urdu book · ایمانی طاقت

کھجور کی چپل پہننے والے

Urdu book, p. 23

By Maulana Wahiduddin Khan

کھجور کی چپل پہننے والے موجودہ افغانستان قدیم زمانہ میں سجستان کہا جاتا تھا۔ اس کا دارالسلطنت کابل تھا۔ یہاں ایک ترک راجہ کی حکومت تھی۔ وہ بدھ مذہب کو مانتا تھا اور اس کا خاندانی لقب رتبیل (زنبيل) تھا۔ یہ علاقہ امیر معاویہ کے زمانہ میں اسلامی خلافت میں شامل ہوا۔ رتبیل نے ابتداء اسلامی فوجوں سے مقابلہ کیا۔ اس کے بعد اس نے دس لاکھ درہم سالانہ خراج پر معاہدہ کرکے اپنے لئے امان حاصل کرلی۔ رتبیل ایک مدت تک خراج دیتا رہا۔ اس کے بعد اس نے خراج دینا بند کردیا۔ اس کے علاقہ پر بار بار فوجیں بھیجی گئیں مگر وہ مطیع نہ ہوا۔ اس سلسلہ میں تاریخوں میں جو واقعات آتے ہیں ان میں سے ایک واقعہ یہ ہے کہ نیز ید بن عبد الملک اموی (م ۱۰۵ھ) کے زمانہ میں جب خلافت دمشق کے کچھ نمائندے اس کے پاس خراج طلب کرنے کے لئے پہنچے تو اس نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے کہا: ”وہ لوگ کہاں گئے جو پہلے آیا کرتے تھے۔ ان کے پیٹ فاقہ کشوں کی طرح دبے ہوئے تھے۔ پیشانیوں پر سیاہ نشان پڑے رہتے تھے اور وہ کھجوروں کی چپلیں پہنا کرتے تھے “ رادی کا بیان ہے کہ یہ کہہ کر رتبیل نے خراج دینے سے انکار کر دیا اور تقریباً پچاسھائی صدی تک وہ اسلامی حکومت سے آزاد رہا۔ صحابہ کے زمانہ کے سیدھے سادے معمولی لوگ رتبیل کی نظر میں اس سے زیادہ طاقتور تھے جتنا کہ بنو امیہ کے زمانہ کے شان و شوکت والے لوگ ۔ اس کی وجہ کیا تھی۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ کسی آدمی کی طاقت کا راز اس کے جسم پر دکھائی دینے والی ظاہری رونقیں نہیں ہیں بلکہ اس کی اندرونی صلاحیت ہے۔ یہ اندرونی صلاحیت پہلے کے لوگوں میں بہت زیادہ تھی اگرچہ ظاہری طور پر وہ معمولی حالت میں دکھائی دیتے تھے۔ طاقت در وہ ہے جس کی ضروریات مختصر ہوں۔ جس کی آرزوئیں محدود ہوں۔ جو لذت اور جاہ کا طالب نہ ہو۔ جس کو تواضع میں تسکین ملتی ہو نہ کہ اپنے کو بڑا بنانے میں ۔ ایسا آدمی نفسیاتی پیچیدگیوں سے خالی ہوتا ہے۔ اس کے لئے صحیح فیصلہ کرنے میں کوئی چیز کاوٹ نہیں بنتی مصلحتوں کا خیال کبھی اس کا قدم نہیں روکتا۔ اپنے مقصد کی خاطر قربانی کی حد تک جانے میں اس کے لئے کوئی چیز حائل نہیں ہوتی۔ اس کے برعکس جو لوگ مصنوعی چیزوں میں گھیرے ہوئے ہوں وہ زندگی کی حقیقی معرفت سے محروم رہتے ہیں ۔ غیر ضروری تکلفات ان کے لئے ایسا بندھن بن جاتے ہیں کہ وہ نہ تو کسی بات کو صحیح رنگ میں دیکھ پاتے اور نہ اس میں اپنے آپ کو واقعی طور پر شامل کر سکتے۔ وہ ذات کے لئے زیادہ اور مقصد کے لئے کم ہو کر رہ جاتے ہیں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page