اعلیٰ کردار کی ایک مثال
Urdu book, p. 33
By Maulana Wahiduddin Khan
اعلیٰ کردار کی ایک مثال مشرقی بنگال مسلم دورِ حکومت میں دہلی کی مرکزی سلطنت کے ماتحت تھا۔ درمیان میں کئی بار ایسا ہوا کہ وہاں کا گورنر مرکز سے باغی ہو کر خود باد شاہ بن بیٹھا۔ انھیں میں سے ایک سلطان غیاث الدین ہے جس نے دہلی کی مرکزی سلطنت سے بغاوت کر کے مشرقی بنگال میں خود مختار حکومت قائم کرلی تھی۔ اس زمانہ میں ڈاکہ کا شہر وجود میں نہ آیا تھا اور حکومت کا مستقر سونارگاؤں تھا۔ اس مسلمان بادشاہ کا ایک واقعہ ایک انگریز مورخ ایف بی بریڈلے برٹ (Bradley Birt) نے نقل کیا ہے۔ اس کی کتاب DACCA: The Romance of one Eastern Capital کے دوسرے ایڈیشن مطبوعہ لندن سن ۱۹۱۹ء میں یہ واقعہ اس طرح درج ہے : " ایک دن شاہ غیاث الدین تیر اندازی کی مشق کر رہا تھا۔ اتفاق سے اس کے تیر سے ایک بیوہ عورت کا اکلوتا لڑکا زخمی ہو گیا ۔ بیوہ عورت کو معلوم نہ تھا کہ یہ تیر بادشاہ نے چلایا ہے۔ وہ قاضی شرع کے پاس فریاد لے کر گئی۔ قاضی نے اپنی فراست سے اندازہ لگایا کہ یہ تیر بادشاہ ہی کا چلایا ہوا تھا۔ وہ دیر تک مہذب رہا کہ بادشاہ کے خوف اور خوف خدا میں سے کس کو ترجیح دوں۔ بالآخر خدا کا خوف قاضی صاحب پر غالب آیا اور انھوں نے بادشاہ کو جواب دی کے لئے اپنی عدالت میں طلب کیا۔ بادشاہ کو جونہی بلا دا پہنچا وہ بلاکسی تامل کے قاضی کی عدالت کی طرف روانہ ہوا۔ لیکن اس نے اپنے کپڑوں میں ایک چھوٹی سی تلوار بھی چھپائی۔ قاضی صاحب نے عدالت میں بادشاہ کا کسی قسم کا احترام نہیں کیا۔ اور معاملہ کی جانچ کے بعد حکم دیا کہ وہ اس بیوہ عورت کو معقول مالی معاوضہ دے کر اس سے اپنا قصور معاف کرائے۔ بادشاہ نے بے چون و چرا اس حکم کی تعمیل کی اور بیوہ عورت کو ایک بڑی رقم پیش کرکے اس سے اپنا قصور معاف کرایا۔ مقدمہ ختم ہونے کے بعد قاضی صاحب اپنی کرسی عدالت سے اٹھ کر بادشاہ کے قدموں پر گر پڑے۔ بادشاہ نے فوراً انھیں اٹھایا اور درہ تلوار ان کو دکھائی جو بیوہ اپنے کپڑوں میں چھپائے ہوئے تھا اور کہا کہ یہ تلوار میں اس لئے لایا تھا کہ اگر تم میرے اس مقدمہ میں شریعت کے حکم سے ذرا بھی روگردانی کرو گے تو میں تمھارا سر اڑا دوں گا۔ لیکن تم نے شرع کے مطابق فیصلہ صادر کرنے میں میرا کوئی خون نہیں کیا اس کے لئے تم انتہائی اعزاز کے مستحق ہو (صفحہ ۵۵-۵۶) شریعت کی پابندی کی یہ مثال قائم کرنے والے بادشاہ کا مقبرہ اس کتاب کی اشاعت کے وقت تک سونار گاؤں میں موجود تھا (صدق جدید ۲ مئی ۱۹۸۰) کسی قوم کی ترقی کا راز یہ ہے کہ اس کے اندر اس قسم کے زندہ افراد موجود ہوں۔ زندہ افراد کی موجودگی سے قوم زندہ ہوتی ہے اور زندہ افراد نہ ہونے سے قوم مر جاتی ہے۔ زندہ آدمی وہ ہے جو مصلحت کے مقابلہ میں اصول کو اہمیت دیتا ہو۔ جو اپنی غلطی پر مقدرات اور توجیہات کا پردہ ڈالنے کے بجائے اُس کو مان لیتا ہو، جو ذاتی شکایت کو نظر انداز کر دے نہ کہ اس کی بنا پر کسی کو اپنا دشمن سمجھ لے۔ جو اس وقت بھی ایک انسان کی قدر کر سکے جب کہ اس نے اس کے خلاف کارروائی کی ہو۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader