Urdu book · انسان کی منزل

آئیڈیل دنیا

Urdu book, p. 106

By Maulana Wahiduddin Khan

آئیڈیل دنیا جیٹ ایرویز کی فلائٹ میگزین (Jet Wings) کے شمارہ اپریل ۲۰۰۵ء میں ایک مضمون چھپا تھا، جس کا عنوان یہ تھا—روڈ ٹوپیراڈائز: The Road to Paradise سات صفحے کے اس با تصویر مضمون میں اُس کے رائٹرس (Gustasp and Jeroo Irani) نے بتایا ہے کہ انھوں نے انڈیا کے ارونا چل پردیش کے خوبصورت پہاڑی علاقے کا سفر کیا۔ انھوں نے بتایا کہ ہمالیہ کی اِس بلند دنیا میں ہر طرف فطرت کا حسن وافر مقدار میں موجود ہے۔ مگر اس علاقے میں سفر کرتے ہوئے بار بار تلخ تجربے بھی ہوتے ہیں۔ یہ علاقہ دُور سے دیکھنے میں تو بہت حسین معلوم ہوتا ہے لیکن وہاں کے راستوں میں چلنا اور وہاں کے مسائل سے نمٹنا پھول میں کانٹے کی طرح معلوم ہوتا ہے۔ اِن تجربات کا تذکرہ کرتے ہوئے اُنھوں نے لکھا تھا کہ’’ہر جنت کا ایک سانپ ہوتا ہے: Every Paradise has its serpent. یہ مثل بائبل کی ایک کہانی پر مبنی ہے۔ اِس کہانی کے مطابق، آدم کی جنت میں ایک سانپ بھی موجود تھا۔ مگر یہ کہانی درست نہیں۔ خدا کی بنائی ہوئی ابدی جنت میں کوئی’’سانپ‘‘ نہیں۔ البتہ انسان بطورِ خود اپنے لیے جو عارضی جنتیں بناتا ہے ان میں سے ہر جنت میں ضرور’’سانپ‘‘ موجود ہوتے ہیں۔ انسان کی بنائی ہوئی کوئی بھی جنت سانپ سے خالی نہیں۔ اصل یہ ہے کہ خدا کی بنائی ہوئی ابدی جنت تو ایک آئیڈیل جنت ہے۔ وہاں نہ حال کی کوئی تکلیف ہے اور نہ مستقبل کا کوئی اندیشہ۔ وہاں نہ کوئی ڈس ایڈوانٹیج ہے اور نہ کوئی محدودیت۔ وہاں نہ شور ہے اور نہ کسی قسم کی کثافت (pollution)۔ وہاں نہ فساد ہے اور نہ کوئی تشدّد۔ یہ مکمل معنوں میں ایک معیاری جنت ہے۔ یہ ابدی جنت اِس لیے بنائی گئی ہے تا کہ منتخب لوگوں کو وہاں بسایا جائے ۔ انسانوں میں سے جو افراد اعلیٰ خدائی معیار پر پورے اُتریں اُن کو یہ جنت موت کے بعد کے مرحلۂ حیات میں انعام کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page