Urdu book · انسان کی منزل

جنت کی زندگی

Urdu book, p. 117

By Maulana Wahiduddin Khan

طرح کی بیماریوں کا شکار ہو جائیں گے۔ یہی حال تمام دوسری لذتوں کا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اکتاہٹ یا بے رغبتی ہماری انجوائے کرنے کی استعداد کی حد ہے نہ کہ خود رغبت کی حد۔ جنت وہ جگہ ہے جہاں نہ صرف یہ ہوگا کہ تمام لذتیں مزید اضافے کے ساتھ زیادہ مکمل حالت میں انسان کو دی جائیں گی، بلکہ ان لذتوں سے انجوائے کرنے کی استعداد کے سلسلے میں اس کی محدودیت بھی ختم کر دی جائے گی۔ جنت میں یہ تضاد ختم ہو جائے گا کہ آدمی انجوائے کرنا چاہتا ہے مگر اپنی کسی کمی کی بنا پر وہ اپنی مرغوب چیزوں سے انجوائے نہیں کر پاتات اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ جنت انسان کے لئے ابدی خوشیوں کی جگہ بن جائے گی۔ دنیا میں آدمی کو جس اکتاہٹ (بوردّم) کا تجربہ ہوتا ہے وہ دراصل ایک تضاد کا نتیجہ ہے۔ آدمی پیدائشی طور پر ایک معیار پسند (idealist) مخلوق ہے۔ وہ چیزوں کو ان کی آئیڈیل صورت میں پانا چاہتا ہے۔ مگر اس دنیا میں ہر چیز غیر معیاری یا غیر آئیڈیل ہے۔ یہاں بوردَم کا اصل سبب یہی ہے۔ آدمی اپنے شوق کے تحت ایک چیز کی طرف دوڑتا ہے۔ اس کو پانے سے پہلے وہ اس فریب میں رہتا ہے کہ یہ عین وہی آئیڈیل چیز ہے جس کا وہ طالب تھا۔ مگر حاصل کر لینے کے بعد جب وہ اس کا تجربہ کرتا ہے تو اس کو معلوم ہوتا ہے کہ یہ چیز اس کے مطلوب آئیڈیل سے بہت کم تھی۔ یہی وجہ ہے کہ اس دنیا میں آدمی کو تلاش کی لذت تو ملتی ہے مگر یافت کی لذت اس کو نہیں ملتی۔ موجودہ دنیا میں آدمی کے لئے فریب لذت ہے اور آخرت میں حقیقی لذت ۔ آخرت کی ہر چیز معیاری ہوگی ۔ اس بنا پر وہ آدمی کے لئے حقیقی اور لامحدود لذت کا ذریعہ بن جائے گی ۔ آدمی جو کچھ چاہتا ہے وہ جنت میں اس کو مزید اضافے کے ساتھ مل جائے گا ، اس لئے وہاں اس کے لئے اکتاہٹ کا کوئی سوال نہ ہوگا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page