کائناتی ماڈل
Urdu book, p. 43
By Maulana Wahiduddin Khan
نارمل ہو جاتے ہیں جیسے کہ کچھ نہیں ہوا۔ اسی طرح انسان کو اپنے سماج میں رہنا ہے۔ سماجی زندگی میں بار بار ایسی چیزیں پیش آتی ہیں جو کسی عورت یا مرد کو ناگوار ہوتی ہیں۔ مگر ہر ایک کو یہ کرنا ہے کہ وہ اس ناگواری کو وقتی بنادے۔ وہ اس کو مستقل تلخی کی صورت نہ اختیار کرنے دے۔ فطرت کی دنیا کا مطالعہ بتاتا ہے کہ یہاں ہر چیز دوسروں کو کچھ دیتی ہے مگر وہ دوسروں سے اپنے لیے کچھ نہیں لیتی۔ مثلاً سورج یکطرفہ طور پر اہل دنیا کو روشنی دیتا ہے مگر وہ اس کی کوئی قیمت وصول نہیں کرتا۔ ہوا مسلسل طور پر آکسیجن سپلائی کرنے کا کام کر رہی ہے مگر وہ اس کا کوئی معاوضہ نہیں لیتی۔ اسی طرح موجودہ دنیا کی تمام چیزیں بلا معاوضہ لوگوں کی خدمت میں لگی ہوئی ہیں، حالاں کہ ان میں سے کوئی بھی چیز اپنی خدمت کے لیے اپنا بل اُن لوگوں کے پاس روانہ نہیں کرتی جو اس سے فائدہ اُٹھا رہے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ آس پاس کی جو دنیا ہے وہ پوری دنیا ایک دینے والی دنیا (giver world) ہے، وہ لینے والی دنیا (taker world) نہیں۔ گویا کہ اس دنیا کا کلچر دینے والا کلچر (giver culture) ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز مسلسل یہ پیغام دے رہی ہے کہ دوسروں سے لیے بغیر دوسروں کو دینے والے بنو۔ انسان کو یہی دینے والا کلچر اپنانا ہے۔ اس کو اپنے معاشرے میں دینے والا بن کر رہنا ہے نہ کہ لینے والا۔ انسان کے لیے اس کے گردو پیش کی کائنات ایک وسیع ماڈل ہے۔ انسان کی کامیابی کا راز یہ ہے کہ وہ اس ماڈل کو اپنی زندگی میں اختیار کرے، صرف اس فرق کے ساتھ کہ انسان کے سوا بقیہ کائنات میں یہ ماڈل قانونِ فطرت کے تحت مجبورانہ طور پر قائم ہے۔ جب کہ انسان اِس کُنائی ماڈل کو اپنی زندگی میں شعوری طور پر خود اپنے اختیار کے تحت قائم کرے گا۔ اپنے آزادانہ اختیار کو کائنات کی ڈسپلن کے تحت لانا، گویا اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کو بے اختیار کر لینا ہے۔ قانونِ فطرت کے مقابلے میں یہی سپردگی (submission) کا رویہ انسان کے لیے صحیح ترین رویہ ہے۔ یہی وہ رویہ ہے جو انسان کے ابدی دور حیات میں کامیابی کا ضامن ہوگا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader